اسحاق کھوڑو اپیلٹ کمیٹی سے راشی افسر اشفاق کھوکھر کو برطرف کرکے ایک غیرجانبدار کمیٹی تشکیل دیں، ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) تعمیراتی قوانین کے ماہر ایڈووکیٹ‌ ندیم احمد جمال نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سے گزارش کی ہے کہ اگر وہ شہر بھرمیں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات اور پورشن کے خلاف کارروائی میں نیک نیتی کے ساتھ سنجیدہ ہیں تو ایس بی سی او کی سیکشن 16 کے تحت بننے والی اپیلٹ کمیٹی کی از سر نو تشکیل کریں

موجودہ اپیلٹ کمیٹی 3 اراکین پر مشتمل ہے جس میں‌ چئیرمین علی مہدی کاظمی، ڈائریکٹر ساؤتھ اشفاق حسین کھوکھر اور ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل شہزاد قریشی ہیں، دو افراد یعنی علی مہدی کاظمی اور شہزاد قریشی کی حد تک انتخاب درست تھا لیکن اشفاق کھوکھر کی کمیٹی میں‌ شمولیت غیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے خود ایک سوالیہ نشان ہے

اشفاق کھوکھر پر غیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے سنگین الزامات ہیں یہاں تک گزشتہ دنوں ڈی جی نے خود ان کے خلاف ایک شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ سندھ حکومت کے کچھ بڑوں کا نام استعمال کر کے بلڈرز سے پیسے اینٹھنے میں‌ ملوث ہیں جس نے ان کی اپیلٹ کمیٹی میں شمولیت کو اور زیادہ متنازعہ بنا دیا ہے

اشفاق کھوکھر کے خلاف اینٹی کرپشن اور نیب میں بھی متعدد انکوائریز زیر التوا ہیں، یہاں تک کہ ان کی پروموشن کے حوالے سے بھی ایک محکمانہ جاتی کارروائی چل رہی ہے، جس کی وجہ سے ایسے شخص کی کمیٹی میں‌ شمولیت اس کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے

اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ ایںڈ سیشن جج ساؤتھ کی ایما پر ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ ضلع جنوبی کی 17 غیرقانونی تعمیرات کی کمپلینٹ کے سلسلے میں‌ اپیلٹ کمیٹی میں پیش ہوئے اور 10 فروری کو کمیٹی نے یہ فیصلہ دیا کہ ان تمام پلاٹوں کے حوالے سے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ 45 دن میں غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کریں

لیکن آج دوماہ گزرنے کے بعد بھی کسی ایک غیرقانونی تعمیرات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس نے نہ صرف اپیلٹ کمیٹی کی عدم دلچسپی اور ناقص کارکردگی کا پول کھول دیا ہے بلکہ چونکہ اشفاق کھوکھر خود اس ضلع کے ڈائریکٹر ہیں اس لئے قیاس امکان یہی ہے کہ انہوں‌ نے بلڈرز سے لئے گئے مال کو حلال کرنے کے لئے اس پر کارروائی نہیں‌ ہونے دی

ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ نے اسی تناظر میں اور اپیلٹ کمیٹی کی شفافیت کے حوالے سے ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو سے اپیل کی ہے کہ وہ اشفاق کھوکھر کو اس کمیٹی سے برطرف کریں بلکہ ازسر نو اپیلٹ کمیٹی کی تشکیل دیں

اپیلٹ کمیٹی کو غیرجانبدار اور شفاف بنانے کے لئے اس میں چئیرمین علی مہدی کاظمی اور شہزاد قریشی کے علاوہ بلڈرز کی نمائندہ تنظیم آباد، پاکستان انجینئرنگ کونسل اور سول سوسائٹی سے ایک نمائندہ لیا جائے یوں یہ 5 رکنی کمیٹی میرٹ پر فیصلہ کر سکے گی اور اس میں‌ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی مداخلت سے بھی بچا جا سکے گا

اپیلٹ کمیٹی کے ہفتے میں‌ ایک یا دو روز مخصوص کئے جائیں اور ممکن ہو سکے تو ہفتہ کا روز اس کے لیے رکھا جائے تاکہ افسران اپنے کاموں کے باعث مصروف ہونے کا بہانہ نہ کر سکیں

اپیلٹ‌ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے بھی اجلاس منعقد کیا جائے اور عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ملوث اور متعلقہ افسران کے خلاف سندھ سول سرونٹس رولز کے تحت کارروائی کی جائے اور ایسے افسر کی اے سی آر میں‌ بھی اس کی نااہلی درج کی جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں