کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے ضلع وسطی میں غیرقانونی تعمیرات کرنے والے بلڈرز کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور متعدد بلڈرز کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے جس میں کاشف اسٹیکر، فیصل ہاشمانی، کاشف انڈہ ، اویس مبارک، زاہد کالا، فیضان بیٹر، سجاد دنبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے
جبکہ مطلوب ترین بلڈر ثاقب بن رؤف، فہد شفیق، سلمان، فراز، جنید نفیس فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں، اس سلسلے میں ایک ایف آئی آر نمبر 270/25 تھانہ تیموریہ میں زیر دفعہ 384/385/420/34 بمع سیکشن 19 ایس بی سی او 1979 درج کی گئی ہے
ایف آئی آر کے متن میں بھی ان کے خلاف غیرقانونی تعمیرات کی سیکشن 19 کے علاوہ اور کوئی سیکشن شامل نہیں بلکہ ایف آئی آر درج کرانے والے ایس بی سی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید محمود رضا کی مدعیت میں درج کی گئی ہے اور اس میں بلڈرز پر غیرقانونی تعمیر کرنے کے ساتھ سرکاری اداروں کے نام پر بھتہ مانگنا اور عوام سے دھوکہ فراڈ کرتے ہوئے پوزیشن (پورشن) بنا کر ایگریمنٹ پر فروخت کرنے کا ہے-
اس ایف آئی آر اور اس میں درج دفعات کے حوالے سے ایچ آراین ڈبلیو نے تعمیراتی قوانین کے ماہر ایڈوکیٹ ندیم احمد جمال سے رابطہ کیا تو ایف آئی آر کے حوالے سے انہوں نے کہا کی ایف آئی آر محض ایک فرضی کہانی پر مشتمل لگ رہی ہے، جن سے بھتہ لینے کا الزام لگایا گیا ہے ان میں سے کسی کا نام بھی نہیں، جس سے دھوکہ دے کر فلیٹ ایگری منٹ پر بیچا اس میں سے بھی کسی کا نام نہیں
ایس بی سی او کی دفعہ 19 پر ایف آئی آر درج کرانے سے قبل بھی کیا ادارے نے اس کے خلاف کارروائی کی تھی اور اگر کارروائی کی تھی تو الگ الگ تمام غیرقانونی عمارتیں بنانے والے بلڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہیئں تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس سے لگتا ہے یہ سب کارروائی ایک ٹوپی ڈرامہ ہے اور خود ادارہ جو ان غیرقانونی تعمیرات کا سب سے بڑا سرپرست تھا اور ہے ان دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کر دیا گیا ہے-
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ایس بی سی اے ان غیرقانونی تعمیرات کے خلاف واقعی سنجیدہ تھی تو انہوں نے SBCO Amended Act 2013 کے تحت ان بلڈرز کے خلاف ایس بی سی او اسپیشل کورٹ میں ڈائریکٹ کرمنل کمپلیٹ فائل کیوں نہیں کی، کیونکہ ایس بی سی اے ان خصوصی عدالتوں میں پرائیوٹ کمپلینٹ فائل کرنے والوں کے خلاف یہ اعتراض لگایا ہوا ہے کہ یہ کمپلینٹ صرف ادارہ فائل کر سکتا ہے
اس اعتراض پر میں نے بھرپور کاؤنٹر فائل کیا ہے اور امید ہے کہ اس ماہ اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا، لیکن یہ ایف آئی آر ٹوپی ڈرامہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، اس میں شامل تمام دفعات قابل ضمانت ہیں بلکہ میری نظر میں یہ کیس
63CrPC کے تحت ہی فارغ ہو جائے گا


