دنیا کی ہر شے خدا کا ثبوت ہے، ریت کے ایک ذرے سے لے کر ہر جاندار تخلیق خدا کی قدرت، وحدانیت اور حقانیت کا ناقابل تردید ثبوت ہے
انسان نے ترقی کی انتہا کو تو چھو لیا ہے اور اس کائنات کے چند ایک سیاروں کو کھوج لیا ہے لیکن اس بے پایاں ترقی کے باوجود وہ خدا کی طرف سے تخلیق کردہ ایک شے کو بھی ہوبہو نہیں بنا سکے ہیں کچھ کا نعم البدل بنا لینا اصل شے کی تخلیق نہیں کہلاتی
انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ ایٹم کو توڑنے اور ستاروں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے، لیکن اب تک وہ اللہ کی کسی تخلیق کی ہوبہو نقل کرنے سے عاجز ہے۔ قرآن اسی حقیقت کو ایک مثال کے ذریعے بیان کرتا ہے:
“اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے، اسے غور سے سنو: جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، چاہے وہ سب کے سب اس کے لئے جمع ہو جائیں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اسے اس سے واپس نہیں لے سکتے۔” (الحج 22:73)
یہاں مکھی کی مثال دراصل انسانی عاجزی کو اجاگر کرنے کے لئے دی گئی ہے۔ انسان بڑے بڑے منصوبے بنا سکتا ہے، لیکن ایک معمولی مخلوق بھی اس کی بساط سے باہر ہے۔
یہاں تک کہ قرآن حکیم میں اللہ نے اپنی کلام کے بارے میں کہا ہے کہ کوئی اس کلام کی ایک آیت تک تو بنا لے آؤ لیکن ایسا بھی کرنے میں کوئی کامیاب نہیں ہو سکا-۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا زندہ معجزہ ہے جو ہر دور کے انسان کو للکار رہا ہے:
“اور اگر تم کو اس (کتاب) کے بارے میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے، تو اس جیسی ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب مددگاروں کو بھی بلا لو، اگر تم سچے ہو۔” (البقرہ 2:23)
کائنات کی ہر شے انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ ایک وحدہٗ لاشریک ہستی موجود ہے جو ہر چیز کی خالق، مالک اور مدبر ہے۔ انسان چاہے کتنا ہی ترقی کر لے، اس کے علم اور ایجاد کی ایک حد ہے، لیکن اللہ کی قدرت لامحدود ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور وحدانیت کے بے شمار دلائل پیش کیے ہیں اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔
۱۔ خدا کی تخلیق کی جامعیت
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا اعلان فرمایا ہے کہ وہی ہر شے کا خالق ہے:
“اللّٰہُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيلٌ” (الزمر 39:62)
یہ آیت ایک کلی اور جامع اعلان ہے کہ کائنات میں کوئی شے بھی خود بخود وجود میں نہیں آئی، بلکہ ہر ذرہ اللہ کے تخلیقی حکم کا نتیجہ ہے۔
خدا کی ہر شے، خدا کا عکس اور اس کا رنگ ہے، قرآن حکیم نے بار بار انسان کو متوجہ کیا ہے کہ وہ کائنات میں غور کرے اور خدا کی قدرت کو پہچانے:
“بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔” (آلِ عمران 3:190)
یہ آیت دراصل انسانی عقل کو جگانے کے لئے ہے۔ آسمان کی وسعتیں، زمین کی ساخت، رات اور دن کی گردش — سب اللہ کے وجود اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ پاک نے کہا ہے صبغۃ اللہ ، یعنی اللہ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے، اصل میں قرآن کریم نے خدا کے دین اور اس کی پہچان کو “صبغۃ اللہ” کہا ہے:
“صبغۃ” کا مطلب وہ رنگ ہے جو کسی شے کو منفرد بناتا ہے۔ اللہ کا رنگ یعنی اس کا دین، ایمان اور بندگی ہی انسان کے لئے حقیقی پہچان ہے۔ باقی سب رنگ وقتی ہیں اور ماند پڑ جاتے ہیں، لیکن اللہ کا رنگ ابدی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: “صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ” (البقرہ 2:138) (اللہ کا رنگ اختیار کرو، اور اللہ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں) ۔
اس آیت میں “صبغۃ اللہ” کی تشریح مختلف مفسرین نے مختلف انداز میں کی ہے۔ امام ابن کثیر کے مطابق اس سے مراد “دین اللہ” یعنی اسلام ہے ۔ حضرت مجاہد کے مطابق یہ “فطرت اللہ” سے مراد ہے جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے ۔
صبغۃ اللہ کے معنوں کے پہلو:
دین اسلام: اللہ کا پسندیدہ دین جو تمام ادیان پر فوقیت رکھتا ہے
فطرت سلیم: وہ فطری مزاج جس پر ہر انسان پیدا ہوتا ہے
خدا کی نشانی: ہر وہ چیز جو خدا کی قدرت اور حکمت کی نشاندہی کرتی ہے
فطرت: خدا کے رنگ کی تجلی
کائنات کی ہر شے خدا کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ پہاڑوں کی عظمت، سمندروں کی گہرائی، صحراؤں کی وسعت، اور جنگلوں کی رنگاری – سب خدا کی قدرت کے مختلف رنگ ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: “تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ” (ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے) ۔
فطرتی مظاہر میں خدا کے رنگ:
پہاڑ: زمین کے لیے میخوں کی مانند سٹیبلائزرز کا کام کرتے ہیں
بارش: مردہ زمین کو زندگی بخشنے کا ذریعہ
ہوائیں: باراں برسانے اور زراعت کے لیے موافق ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ
سورج اور چاند: وقت کے حساب سے چلنے والے فلکی اجسام
خدا کی قدرت اور حاکمیت کا تصور انسانی تاریخ کا قدیم ترین اور سب سے گہرا تصور ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” (بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے) ۔ یہ جملہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ کائنات کے ہر ذرے میں مشہود حقیقت ہے۔
کائنات کی تخلیق اور اس کا نظام خدا کی لامحدود قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
“إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ… لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ” (بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، رات اور دن کے بدلنے میں، اور ان جہازوں میں جو سمندر میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر چلتے ہیں… عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں) ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کائناتی نظام کی پیچیدگی اور اس میں پوشیدہ حکمتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ سائنس کی ترقی نے ان پیچیدگیوں کو مزید عیاں کیا ہے، لیکن اس کے باوجود انسان اس عظیم الشان نظام کی ہر تہہ تک نہیں پہنچ سکا۔
کائناتی نشانیاں: آسمانوں اور زمین کی تخلیق: ستاروں، کہکشاؤں اور سیاروں کا نظام
موسموں کا تغیر: رب کے حکم سے فصلیں اگنے اور زمین کے سینے سے انواع و اقسام کی نعمتیں نکلنے کا عمل
جانداروں کی تخلیق: ہر جاندار کی منفرد ساخت اور اس میں پوشیدہ حکمتیں
انسانی ترقی: خدا کے سامنے عجز
انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ وہ چاند تک پہنچ گیا، مریخ پر گاڑیاں اتار دیں، اور ایٹم کے ذرے تک کو تقسیم کر کے دیکھ لیا۔ لیکن اس تمام ترقی کے باوجود انسان ایک معمولی مکھی تک پیدا نہیں کر سکا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: “يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ” (اے لوگو! ایک مثال دی جاتی ہے اسے غور سے سنو: جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے چاہے سب مل کر کیوں نہ کوشش کریں) ۔
انسانی عجز کی مثالیں:
حیاتیاتی تخلیق: انسان مصنوعی اعضا تو بنا سکتا ہے لیکن ایک زندہ خلیہ تخلیق نہیں کر سکتا
کائناتی نظام: انسان مصنوعی سیارے تو بنا سکتا ہے لیکن ایک ستارہ یا سیارہ تخلیق نہیں کر سکتا
قرآن کریم: خدا کا ناقابل تقلید کلام
قرآن مجید خدا کی قدرت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چیلنج فرمایا: “قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا” (کہہ دو کہ اگر تمام انسان اور جن مل کر بھی اس قرآن جیسا لانا چاہیں تو نہیں لا سکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ بن جائیں) ۔
یہ چیلنج چودہ سو سال سے قائم ہے اور کوئی بھی شخص اس کی مثل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ قرآن کا اعجاز محض اس کے الفاظ اور بلاغت تک محدود نہیں بلکہ اس میں پوشیدہ سائنسی حقائق، تاریخی واقعات کی صحت، اور مستقبل کی پیشگوئیاں بھی اس الہی اصل کی واضح نشانیاں ہیں۔
قرآن کے اعجاز کے پہلو:
بلاغت و فصاحت: عربی زبان کا اعلیٰ ترین معیار
سائنسی حقائق: جنین کی تخلیق، کائنات کے پھیلاؤ، اور پہاڑوں کی function جیسے موضوعات
تاریخی حقیقت: گذشتہ قوموں کے واقعات کی درستگی
پیشگوئیاں: مستقبل میں ہونے والے واقعات کا صحیح صحیح بیان
انسانی عقل اور خدا کی قدرت
انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل و فکر کی نعمت سے نوازا ہے، لیکن یہ عقل خدا کی لامحدود قدرت کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: “وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا” (تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ بہت تھوڑا ہے) ۔
انسانی علم چاہے کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو جائے، وہ ہمیشہ خدا کے علم کے سامنے ناقص اور ادھورا رہے گا۔ سائنس کی ترقی درحقیقت خدا کی تخلیق کردہ کائنات کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش ہے، نہ کہ خدا کے وجود سے انکار کی بنیاد۔
مآخذ مضمون: خدا کے رنگ میں رنگ جانا
خدا کی قدرت کا عکس ہر جگہ نظر آتا ہے – ایک چھوٹے سے کیڑے سے لے کر عظیم الشان کہکشاؤں تک۔ انسان چاہے کتنی ہی ترقی کر لے، وہ خدا کی تخلیق کے سامنے بے بس اور عاجز ہے۔ قرآن مجید کا چیلنج آج بھی قائم ہے کہ کوئی اس کی مثل پیش کرے۔ “صبغۃ اللہ” کا تصور ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو خدا کے رنگ میں رنگین کرنا چاہیے – اس کے دین پر چلنا چاہیے، اس کی فطرت کو اپنانا چاہیے، اور اس کی نشانیوں کو پہچاننا چاہیے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: “فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ” (آپ یکسو ہو کر اپنا رخ دین کی طرف متوجہ رکھیں، اللہ کی فطرت پر جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) ۔
خدا کی قدرت کامل ہے، اس کا علم محیط ہے، اور اس کا رنگ سب سے خوبصورت ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے رنگ میں رنگ جائیں اور اس کی نشانیوں میں غور و فکر کر کے اس کی معرفت حاصل کریں۔
“خدا میرا ہے” – یہ وہ یقین ہے جو ہر مومن کے دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے۔ جب انسان یہ احساس کر لے کہ خدا اس کا ہے، پھر دنیا کی ہر چیز اس کے لیے خدا کی قدرت کا ثبوت بن جاتی ہے۔ ریت کا ایک ذرہ ہو یا آسمان کا تارا، ہر شے خدا کی وحدانیت، قدرت اور حقانیت کی گواہی دے رہی ہے۔
“خدا میرا ہے”۔ یہی ایمان کی بنیاد، یہی زندگی کا سہارا اور یہی نجات کا راستہ ہے۔


