سندھ (ایچ آراین ڈبلیو): پنجاب کے بعد سیلاب نے سندھ میں تباہی مچانا شروع کر دی ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 37 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جسے انتہائی خطرناک حد قرار دیا جا رہا ہے۔ سکھر بیراج پر 4 لاکھ 60 ہزار کیوسک پانی کی آمد نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
دریائے سندھ کے ساتھ واقع شہروں کوٹ مٹھن (راجن پور) اور چاچڑاں شریف میں پانی کی سطح 11.4 فٹ تک جا پہنچی ہے، جبکہ تحصیل علی پور کے کچے علاقے ملاں والی میں پانی داخل ہونے سے مقامی افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اگرچہ دریائے چناب میں ہیڈ پنجند پر پانی کے بہاؤ میں 30 ہزار کیوسک کمی آئی ہے، لیکن یہ اب بھی 6 لاکھ 33 ہزار کیوسک کی خطرناک حد پر ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک کم ہوا ہے، مگر ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر سیلابی صورتحال برقرار ہے۔
محکمہ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ آنے والے 24 سے 48 گھنٹوں میں سندھ کے نچلے علاقوں میں سیلابی ریلے کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
————————————
ایچ آراین ڈبلیو کی اپیل:
ہم عوام تک غیر جانبدار اور سچی خبریں پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اگر آپ بھی معیاری صحافت کو فروغ دینا چاہتے ہیں، تو براہ کرم ہمارے ساتھ جڑیں۔ آپ کا عطیہ ہمیں حقائق کی روشنی پھیلانے میں مدد دے گا۔
سچائی کی تحریک میں شامل ہوں۔ عطیہ دیں۔
ویب سائٹ:hrnww.com/donate


