بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس طارق رزاق دھاریجو حیدرآباد رینج نے کہا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہےعدم برداشت کا شکار معاشرے اخلاقی پستی کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی کلب میں اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اسٹینڈنگ آرڈر اور انسپکٹر جنرل آف سندھ پولیس کے احکامات کی روشنی میں تشکیل کردہ رینج لیول کی امن کمیٹی کے تیسرے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج نے مزید کہا کہ ایک دوسرے کی رسومات اور مذہبی عقائد کا احترام معاشرے میں برداشت کی راہوں کو ہموار کرتا ہے۔ ایس ایس پی حیدرآباد عدیل حسین چانڈیو نے کہا کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں اور ان کی جان و مال کے تحفظ کے لئے حیدرآباد پولیس چوکس اور چوکنا ہے اور اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں انہوں نے شرکاء کی جانب سے پیش کی گئی گزارشات کو بغور سنا اور ان پر جلد عمل درآمد کی مکمل یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر اے ڈی آئی جی پی کمپلین حیدرآباد رینج عبد الخالق جٹھیال اور ڈی ایس پی لیگل ونود کمار سونی نے شرکت کی۔سندھ ہیومین رائٹس کمیشن کے چیئرمین اقبال ڈیتھو نے کہا کہ اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لئے امن کمیٹی کا کردار نہایت فعال ہے انہوں نے اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے کی جانی والی کاوشوں کا تفصیلی احاطہ بھی کیا.

اجلاس کا مقصد حیدرآباد رینج میں بین المذاھب ہم آہنگی کو فروغ دینا، باہمی رواداری کو یقینی بنانا اور مختلف مذاہب کے مابین مثبت روابط کو مستحکم کرنا تھا اجلاس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اہم شخصیات نے شرکت کی۔

بعد ازاں ہیڈ آف پروگرام واحد سنگراسی سول سپورٹ سوسائٹی پروگرام (CSSP) نے پیس کمیٹی کی تشکیل اور اس کے لائحہ عمل کے بارے میں شرکاء کوآگاہ کیا اور امن کمیٹی کے قیام اغراض و مقاصد اور اس کے کردار پر شرکاء سے اظہار خیال کیا۔

انسپکٹر منور ڈیوڈ فوکل پرسن مینارٹی ونگ حیدرآباد رینج نے رینج لیول کی سطح پر اقلیتوں کو فراہم کی جانے والی سہولت کاری اور اس کے اسٹریکچر پر ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج/چیئرپرسن پیس کمیٹی اور تمام ممبران کو تفصیلی بریفنگ دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں