142

بلوچستان میں‌ غیرت کے نام پر انسانی حقوق کا المیہ (ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ)

بلوچستان کے علاقے ڈگاری میں ایک مرد اور عورت کو گولیاں مار کر بہیمانہ قتل کے ویڈیو زبان زد عام ہے، میڈیا کے مطابق ڈیڑھ سال قبل پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو قبیلے والوں نے دعوت پر بلایا مگر وہ کھانے کی نہیں غیرت دکھانے کی دعوت تھی دونوں کو لے جا کر ایک چٹیل میدان میں کھڑا کردیا جاتا ہے وہاں 19غیرت مند بلوچ مرد کھڑے ہیں جن میں سے پانچ کے پاس اسلحہ ہے ، بڑی سی چادر میں لپٹی بانو اور اس کے مبینہ شوہر زرک کو گاڑیوں کے قافلے میں قتل گاہ پر لاکر اتارا جاتا ہے اور پہلے بانو کو 9 گولیاں اور پھر زرک کو دوگنی گولیاں مار کر قتل کر دیا جاتا ہے

یہ ویڈیو اتنے بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ نے بھی اس پر سوموٹو لیا اور وزیراعلی بلوچستان جو خود ایک سردار ہیں انہوں نے پولیس کو ذمہ داران کے خلاف ایکشن لینے کی ہدایت کی جس پر بلوچ جوڑے کو قتل کرنے کا حکم دینے والے ساتکزئی قبیلے اور جرگہ کے سربراہ سردار شیرباز سمیت 11 افراد کو گرفتار کرلیا گیا اور آج کل وہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں،

سوشل میڈیا کی رپورٹنگ میں دعوی کیا گیا کہ وہ دونوں پسند کی شادی کے مرتکب ہوئے تھے جبکہ وزیراعلی بلوچستان نے دعویٰ کیا کہ قتل ہونے والی خاتون اور مرد کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا، سوشل میڈیا پر کہا جاتا رہا کہ نوبیاہتا جوڑا تھا لیکن ایسا نہیں تھا، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ خاتون پانچ بچوں کی ماں تھی، قتل ہونے والے مرد کے بھی چار، پانچ بچے ہیں، ان دونوں کا بے دردی سے قتل کیا گیا جو کہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے،

دوسری طرف بلوچستان میں‌غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خاتون بانو کی والدہ کا ویڈیو بیان منظرِ عام پر آیا۔ جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کے قتل کو “بلوچی رسم و رواج کے مطابق سزا” قرار دیتے ہوئے واقعے کے مرکزی کردار سردار شیر باز ساتکزئی کو بے قصور قرار دیا ہے۔ ویڈیو بیان میں خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ بانو نے ایسی حرکت کی تھی جو قبیلے کے روایتی اصولوں کے خلاف تھی، اس لیے اسے سزا دی گئی۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر اس طرح بربریت مچانا دراصل اونچے درجے کی جہالت کا ایک ثبوت ہے، اور ورثا کی طرف سے اس طرح‌ کے اقدامات کی حمایت عذر گناہ بدتر از گناہ کے مترادف ہے- اگر یہ بات بھی تسلیم کر لی جائے کہ مرد و عورت میں‌ کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا تو انہیں ملک کے قانون کے مطاق کیفرکردار پہنچایا جا سکتا تھا، جب ایک قبیلے کے سربراہ کے حکم پر قتل کر دیا جاتا ہے تو اس سردار کا انتظامیہ پر بھی ایسا ہی اثر و رسوخ ہو گا کہ وہ انہیں قانون کے دائرہ میں لا کر قرار واقعی سزا دلا سکتا تھا لیکن دراصل دوسروں کو اپنی طاقت دکھانے اور انہیں دہشت زدہ کر کے اپنی جہالت ثابت کرنے کے لئے ایسا واقعات کا سہارا لینا ان کی روش بن چکا ہے

پاکستان میں‌ ظلم کے خلاف ہر قسم کے قوانین موجود ہیں‌ لیکن ان پر عمل درآمد ہمیشہ سے ندارد، اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ ملک انہی وڈیروں، جاگیرداروں اور سرداروں کے چنگل میں جکڑا ہوا ہے اور اس عفریت سے نجات کی صورت دور دور تک نظر نہیں آتی کیونکہ اس ملک کو چلانے والوں کو ان کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے وہ ان کی من مانیوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں

یہ قتل شرعی، اخلاقی اور قانونی لحاظ سے نہ صرف غلط ہے بلکہ اس نے خود ریاست پاکستان کی رٹ کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عمل داری ہے، اس ملک کی اسٹمبلشمینٹ‌ کو اب عوام کے لئے بھی سوچنا ہو گا کہ وہ انہیں‌ کم از کم امن اور قانون کی حکمرانی ہی دے دیں، حالانکہ یہ تصور بھی ان حالات میں ناقابل یقین ہے

عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں خواتین اور انسانی حقوق کی صورتحال پر جاری اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال 2019 سے 2024 کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے 212 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں جاری صنفی تشدد اور انصاف کے نظام کی ناکامی پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن کر سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان چھ برسوں میں غیرت کے نام پر قتل کی درج ذیل تعداد سامنے آئی جہاں 2019 میں 52 افراد، 2020 میں 51 افراد سال 2021 میں 24 افراد اسی طرح سال 2022 میں 28 افراد، 2023 میں 24 افراد اور 2024 میں 33 افراد قتل کیے گئے، جن میں سے 19 خواتین تھیں۔

عورت فاؤنڈیشن کے مطابق یہ صرف وہ کیسز ہیں جو رپورٹ ہوئے جب کہ درجنوں واقعات ایسے بھی ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے یا دباؤ، رسوائی اور مقامی جرگہ سسٹم کے باعث منظر عام پر نہیں آتے۔ رپورٹ کے مطابق ان پانچ سالوں کے دورانیہ میں ضلع نصیرآباد غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا جہاں 73 کیسز رپورٹ ہوئے جو کل واقعات کا 34 فیصد بنتے ہیں۔

اسکے علاوہ دیگر اضلاع کی صورتحال کچھ یوں ہے جعفرآباد 23 کیسز 11 فیصد، جھل مگسی اور مستونگ میں 18، 18 کیسز 8 فیصد فی ضلع، کچھی 17 کیسز 8 فیصد، کوئٹہ 11 کیسز 5 فیصد، قلات میں 7 کیسز، صحبت پور اور لورالائی میں چھ چھ کیسز اور خضدار میں 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ زیادہ تر کیسز میں یا تو ملزمان گرفتار نہیں ہوئے یا پھر قانونی کارروائی ادھوری رہی عدالتوں میں مقدمات کی سست روی، پولیس کا عدم تعاون اور سیاسی و قبائلی دباؤ ان معاملات میں انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔

عورت فاؤنڈیشن نے حکومت بلوچستان اور وفاقی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے، متاثرہ خاندانوں کو تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کی جائے اور سماجی شعور اجاگر کرنے کے لیے میڈیا، تعلیمی اداروں اور مقامی رہنماؤں کو شامل کر کے بھرپور مہم چلائی جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حساس تربیت دی جائے تاکہ وہ صنفی تشدد کو سنجیدگی سے لیں۔

انسانی حقوق کے ایک وکیل اورادنی کارکن کی حیثیت سے میں‌ عورت فاؤنڈیشن کے ان مطالبات کی پرزور تائید کرتا ہوں اور پاکستان کی وفاقی حکومت سے لے کر تمام صوبائی حکومتوں‌ سے درخواست کرتا ہوں کہ سیاسی جماعتیں جو اربوں‌ روپے اپنوں کاموں کی غیرضروری تشہیر کے لئے صرف کر دیتی ہیں‌ وہ اس ملک کی عوام کو ان کے حقوق کی آگہی اورقانون کی حکمرانی کے لئے عمل درآمد میں‌ تیزپر خرچ کریں تو ان کی نالائقی کے داغ دھل سکتے ہیں

حقوقِ نسواں کے کارکنان اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اعداد و شمار کو “خطرے کی گھنٹی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی جان، آزادی اور وقار شدید خطرات سے دوچار ہیں، اور اگر فوری طور پر قانونی و سماجی سطح پر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں