171

مخدوش عمارتوں کے مکینوں کا قانونی حل! (ندیم احمد ایڈوکیٹ)

لیاری میں‌ زمین بوس عمارت میں‌27 افراد کی ہلاکت نے بظاہر سندھ حکومت کی بنیادیں ہلا دی ہیں اور انہوں نے اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے ڈی جی ایس بی سی اے اسحق کھوڑو کو قربان کر دیا جو نان ٹیکنیکل ہونے کے باوجود تیسری بار اس منصب پر براجمان تھے

عمارت کے انہدام کے بعد تھانہ بغدادی میں درج FIR NO 237/2025 بجرم دفعہ ,ت پ 322/337-A(i)/288/427/217/218/34 کے تحت درج کیا گیا، مقدمہ حماد اللہ ولد حبیب اللہ سہڑ (سیکشن افسر(HTP-1) لوکل گورنمنٹ اینڈ ہاوسنگ ٹاون پلاننگ ڈیپارٹمنٹ سندھ کراچی کی مدعیت میں درج کیا گیا

مقدمہ میں ریٹائرڈ ڈائریکٹر سید آصف رضوی، سید زرغام حیدر، سیدعرفان حیدرنقوی، اشفاق حسین کھوکھر، جلیس صدیقی، فہیم مرتضی، عاصم خان، فہیم صدیقی، ظفراقبال، ذوالفقار شاہ، جھنگی خان، ۔جمیل اور یونس خان کو نامزد کیا گیا

قانونی طور پر دیکھا جائے تو پولیس نے اس ایف آئی آر میں‌ جتنی بھی دفعات لگائیں سب قابل ضمانت ہیں اور ہماری استغاثہ کی کارکردگی سامنے رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تمام لوگ باعزت بری ہو جائیں گے اور 27 افراد کی ہلاکت لوگ بھول جائیں گے، کیونکہ بیڈ گورننس کے باعث ایسے سانحات اب اہل کراچی کا نصیب بن چکے ہیں

یہ غیرقانونی عمارتیں کون بناتا اور بنواتا ہے اور خاص کر لیاری میں تو 90 فیصد عمارتیں غیرقانونی ہی تعمیر ہوتی ہیں اور ایس بی سی اے کے افسران کو بھی مبینہ طور پر بھاری تو نہیں بس مناسب مال پانی مل جاتا ہے، لیاری چونکہ مافیاز کا گڑھ ہے اس لئے یہاں طاقت کے زور پر بھی غیرقانونی عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں

کمشنر کراچی نے بھی خود کو متحرک رکھنے کے لئے 500 سے زائد مخدوش عمارتوں جس کی تفصیل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے فراہم کی ہے انہیں سربمہر کر کے خالی کرانا شروع کر دیا ہے جس پر وہاں کے مکینوں نے واویلا مچانا شروع کر دیا ہے

ان مکینوں کی آہ و فغاں جائز بھی ہے کہ سینئیر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے بڑے فخر سے انہیں صرف تین ماہ کا کرایہ دینے کی نوید سنائی ہے، اس کے بعد ان کا کیا پرسان حال ہو گا، اس کا ٹھیکا سندھ حکومت نے نہیں لے رکھا

مخدوش عمارتوں کا انہدام بھی شروع کر دیا گیا ہے اور ان کے مکینوں‌ کی بے دخلی بھی اسی طرح ہو گی لیکن سندھ حکومت کی طرف سے اس مسئلہ کا پائیدار حل جس سے وہاں رہنے والے مکین بھی فیضیاب ہو جائیں اور اس غیرقانونی عمارت کو بنانے والے بلڈر کو بھی کچھ سبق حاصل ہو، ابھی تک سامنے نہیں‌ آ سکا ہے

جیسا کہ میں نے بالا کہا ہے کہ اس انہدام کی ایف آئی آر دراصل سندھ حکومت کی جانب سے موجودہ صورتحال میں اپنی نام نہاد کارکردگی دکھانے کے سوا کچھ بھی نہیں اور یہ تمام لوگ اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے

لیکن وہ 27 افراد کبھی واپس نہیں آئیں جو سرکاری اداروں کی غفلت، کرپشن اور بلڈر کی ہوس کا شکار ہو کر اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں‌، اس لئے ضروری ہے کہ مستقبل میں ایسے معاملات کے تدارک کے لئے بلڈنگ بائی لاز میں‌ ایسی قانون سازی کی جائے کہ خستہ میٹریل کے باعث مخدوش ہونے والی عمارتوں کے مکینوں کی اشک شوئی ہو سکے

اس حوالے سے میں سندھ حکومت، محکمہ بلدیات اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو کچھ تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں جو ایسی عمارتوں میں رہنے والے مکینوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں اور ان پر قانون سازی بھی مستقبل میں دوررس اثرات مرتب کرے گی

�ایسی تمام عمارتیں جنہیں مخدوش قرار دے دیا گیا تو سب سے پہلے اس عمارت کی تعمیر کا سال، تعمیر کرنے والے بلڈر کا نام، اس پلاٹ کا مالک، ٹھیکیدار اور اس وقت ایس بی سی اے کا ذمہ دار افسر یعنی ڈائریکٹر سے لے بلڈنگ انسپکٹر تک کی تفصیل اکھٹی کی جائے

� اس بات کی تحقیق کی جائے کہ عمارت کے مخدوش ہونے کی وجوہات کیا ہیں اور پھر ذمہ داروں کی نشان دہی کر کے ان کے خلاف تعزیری کارروائی کی جائے جن میں بلڈر، ٹھیکیدار کے ساتھ سرکاری ادارے کے ذمہ دار افسران بھی شامل ہوں

� اگر عمارت 25تا 30 سال سے پہلے ہی منہدم ہو جائے تو اس میں بلڈر کے ساتھ اس دور کے ایس بی سی اے افسران یعنی ڈائریکٹر سے لے کر بلڈنگ انسپکٹر تک کے خلاف ناقابل ضمانت مقدمات کے اندراج کے لئے بلڈنگ بائی لاز میں ترامیم ضروری ہیں

�اس عمارت میں‌ رہنے والوں کی مکمل تفصیل مرتب کی جائے کہ کس سے انہوں نے یہ فلیٹ خریدا، کب خریدا

� اس عمارت کے انہدام کے بعد مارکیٹ میں اس پلاٹ کی قیمت خرید معلوم کرائی جائے

�اگر ایسی عمارت کا بلڈر سامنے آ جاتا ہے تو اس کو اس بات کا موقع دیا جائے کہ وہ اس عمارت کو دوبارہ اپنے اخراجات پر تعمیر کرکے وہاں کے مکینوں کو رہائش دے گا اور جس قیمت پر اس نے فلیٹ فروخت کیا تھا اس کا 25 فیصد وہ مکینوں سے لے سکتا ہے اور باقی نقصان وہ اپنے پرانے کرتوتوں کا ازالہ کرنے کی پاداش میں بھگتے گا اور گر کوئی وہ 25 فیصد بھی نہیں‌ دے سکتا تو پلاٹ کی جو بھی ویلیو لگے اس کو وہاں رہنے والوں مکینوں کی تعداد پر تقسیم کرکے وہ رقم انہیں ادا کر دی جائے

� سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کسی بھی بلڈر کے لئے عمارت کی استحکام کی غرض سے ایک مدت معین کرے کہ عمارت ایسی تعمیر ہونی چاہیئے کہ اس کی عمر مثلا 40، 50 یا 60 سال تک قابل رہائش ہو اور اگر اس سے پہلے اسے نقصان پہنچا (ناگہانی آفات کے علاوہ) تو اسے دوبارہ تعمیر کر کے مکینوں کو دینا اس کی ذمہ داری ہو گا

�اس بات کی بھی قانون سازی کی جائے کہ کسی بھی مخدوش عمارت یا قبل ازوقت منہدم ہونے والی عمارت کے پلاٹ کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے گا اور اس پلاٹ کی عام نیلامی کر کے اس کی رقم وہاں رہنے والے مکینوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے گی، لیکن اس سے قبل بلڈر کو موقع دیا جائے گا کہ وہ متاثرہ مکینوں کا کی کس طرح داد رسی کرتا ہے

� اگر بلڈر متاثرہ مکینوں کی داد رسی خوش اسلوبی سے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو انہدام کے اخراجات بھی بلڈر وصول کر کے پلاٹ اس کے حوالے کیا جا سکتا ہے

مندرجہ بالا تجاویز ایسی ہیں جن سے نہ صرف منہدم عمارتوں کے مکینوں کی داد رسی ہو سکتی ہے بلکہ بلڈروں پر بھی عمارت کی تعمیر میں غیرمعیاری میٹریل کے استعمال کے حوالے سے کچھ خوف پیدا ہو سکتا ہے

امید ہے کہ سندھ حکومت عوامی مفاد میں ان تجاویز پر غور کرے گی تاکہ 500 سے زائد مخدوش عمارتوں کے مکینوں کی دعائیں ہی انہیں مل جائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں