148

پاکستان میں چائلڈ لیبرکا لامتناہی سلسلہ اور حکومتی بے حسی کی انتہا، ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ

پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین موجود ہونے کے باوجود لاکھوں بچے آج بھی شدید مشقت پر مجبور ہیں، اور حکومت بے حسی کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔ حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک کمسن بچہ اینٹوں کا بوجھ اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتا دکھائی دیتا ہے—یہ ایک دردناک حقیقت ہے جو حکمرانوں کی نااہلی پر طمانچہ ہے۔

غربت کی چکی میں پسے معصوم بچے، فیکٹریوں، بھٹوں اور ہوٹلوں میں اپنی بچپن کی خوشیاں گروی رکھ کر دو وقت کی روٹی کمانے پر مجبور ہیں۔ *چائلڈ لیبر ایکٹ 1991 اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 11 اور 25-A* کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے، جبکہ یہ چائلڈ لیبر کے عالمی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے اور پاکستان بین الاقوامی طور پر ان قوانین کا signatory ہے لیکن کبھی کسی حکمران نے عملی قدم نہیں اٹھایا۔

*یہ پہلا واقعہ نہیں، نہ ہی آخری ہوگا۔* حکومتی دعوے کھوکھلے ہیں، اور پالیسی صرف کاغذوں پر لکھی ایک کہانی ہے۔ سوال یہ ہے: *کیا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اس بے رحمانہ حقیقت کا نوٹس لیں گے، یا ہمیشہ کی طرح زبانی بیانات دے کر آگے بڑھ جائیں گے؟*

اس ملک کے حکمران باری باری باریاں لے رہے ہیں جو کل تک ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے آج سیاست اور اقتدار کی وجہ سے آپس میں شیروشکر ہو رہے ہیں

درحقیقیت یہ لوگ چاہتے ہی نہیں کہ عوام ترقی کرے، یہ خوشحال ہو، یہ تہذیب یافتہ ہو، کیونکہ اگر ایسا ہو گیا تو ان پاکستانی راجوں اور مھاراجوں کی نسلیں کس طرح اس ملک کے اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکیں گی

ذرا نہیں سوچییے، پورا سوچئیے

لیکن خود کو بدلنے کا

اپنا تبصرہ بھیجیں