2 ارب روپے کی بے قاعد گیاں بے نقاب،آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ رپورٹ میں سندھ پولیس میں ہتھیاروں اور گولیوں کی خریداری میں پونے 2 ارب روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 کے دوران انسپکٹر جنرل سندھ کے دفتر میں کیے گئے آڈٹ کے دوران یہ بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واہ انڈسٹریز اور ایم ایس ڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے ایک ارب 74 کروڑ 60 لاکھ روپے مالیت کے ہتھیار اور گولیاں خریدی گئیں، تاہم خریداری کے عمل میں کئی قانونی اور انتظامی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلحے اور گولیوں کی خریداری کے لیے نہ تو وزارتِ دفاع سے این او سی حاصل کی گئی اور نہ ہی خریداری کا کوئی سالانہ منصوبہ ترتیب دیا گیا۔ مزید یہ کہ کئی پولیس افسران جن کا تبادلہ ہو چکا ہے، ریٹائر ہو چکے ہیں یا وفات پا چکے ہیں، اُن سے اسلحے کے حوالے سے کوئی ریکارڈ حاصل نہیں کیا جا سکا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خریدے گئے اسلحے کی اصل نوعیت اور تعداد ثابت کرنے کے لیے درکار دستاویزات بھی غائب ہیں۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسلحے کو محفوظ رکھنے یا اسٹور کرنے کا بھی کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں۔

آڈیٹر جنرل نے یہ بھی بتایا کہ اکتوبر 2024 میں متعلقہ ریکارڈ طلب کیا گیا تھا، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس سے مالی بے قاعدگیوں کی سنگینی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسلحہ خریداری کے تمام معاملات کا مکمل ریکارڈ فوری طور پر فراہم کیا جائے اور ان افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جو اس بدعنوانی میں ملوث پائے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں