سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی خصوصی عدالت ویسٹ کا آرڈر ہائی کورٹ میں‌ چیلنج، نوٹس جاری

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) تعمیراتی قوانین کی عمل درآمد کے لیے سرگرم ایڈوکیٹ ندیم احمد جمال نے ڈسٹرکٹ‌ اینڈ سیشن جج ویسٹ کی عدالت جو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی خصوصی کورٹ کے اختیارات بھی رکھتی ہے کے آرڈر کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر دیا

درخواست گزار روحیل صدیقی نے سرجانی ٹاؤن میں پلاٹ‌ نمبر ایس آر -25 سیکٹر 5 ڈی میں‌ ہونے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کرمنل کمپلینٹ دائر کی تھی جسے اسپیشل کورٹ‌ ایس بی سی اے ویسٹ نے ایس بی سی او کی سیکشن 19(2) کے تحت مسترد کر دیا تھا

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس سیکشن کے تحت صرف ایس بی سی او ہی بلڈر کے خلاف کرمنل کمپلینٹ‌ دائر کر سکتی ہے، اس آرڈر کے خلاف ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ نے سندھ ہائی کورٹ میں کرمنل ریوژن دائر کرتے ہوئے اسے چیلنج کر کیا

آج سندھ ہائی کورٹ‌ کے جسٹس عمر سیال کی عدالت میں کیس کی سنوائی کے موقع پر فاضل ایڈوکیٹ ندیم احمد جمال نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایس بی سی اے اسپیشل کورٹ ویسٹ کا آرڈر قانون کے برخلاف ہے کیونکہ سندھ ہائی کورٹ اس سلسلے میں مفصل فیصلے دے چکی ہے کہ اگر کسی بھی شخص کو کسی غیرقانونی تعمیرات سے شکایت ہے تو وہ ادارہ کو شکایت داخل کرے گا اور اگر ادارہ 30 یوم میں‌اس شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کرتا ہے تو وہ ایس بی سی اے کی اسپیشل کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے

ندیم احمد ایڈوکیٹ نے اس ضمن میں ہائی کورٹ کے متعدد آرڈرز کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ٹرائل کورٹ کا یہ اختیار ہی نہیں تھا کہ سیکشن 19(2) کو قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرے، کیونکہ ہائی کورٹ کے تفصیلی آرڈر جو سی پی نمبر ڈی-3465/2024 میں‌ ہوا اس میں‌ پرائیوٹ درخواست گزار کو ایس بی سی اے اسپشیل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی

ایڈوکیٹ ندیم احمد جمال نے مزید کہا کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ سیکشن 19(2) ایس بی سی او آرڈی ننس 1979 کے بارے میں‌ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اسی عدالت میں ریویو دائر کرتی اور وہاں یہ اعتراض اٹھاتی لیکن ایسا نہیں‌کیا گیا اور براہ راست اس نے اسپیشل کورٹ میں یہ اعتراض داخل کیا

سندھ ہائی کورٹ نے ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ کے دلائل سننے کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا اور اگلی تاریخ سماعت 25 اگست 2025 مقرر کر دی

اپنا تبصرہ بھیجیں