وادیِ حسین قبرستان کی غیرقانونی قبضہ گیری: انسانی حقوق کی پامالی اور خاموش اقتدار- سید طلعت شاہ

تحریر:سید طلعت شاہ

کراچی کا وادیِ حسین قبرستان صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ ہزاروں خاندانوں کی آنکھوں کا سُرور، اپنوں کی آخری آرام گاہ، اور مذہبی تقدس کا نشان ہے۔ مگر آج، اس مقدس زمین کو “اسکیم 6” نامی ہاؤسنگ پراجیکٹ کی تعمیرات نے نگلنا شروع کر دیا ہے۔ یہ صرف زمین کی جنگ نہیں، بلکہ انسانی تکریم، قانون کی حکمرانی، اور اخلاقیات کے جنازے کی کہانی ہے۔

یہ قبرستان کراچی کا اہم حصہ رہا ہے. مقامی افراد کے مطابق یہاں 50,000 سے زائد قبریں موجود ہیں۔ مگر گزشتہ کچھ عرصے سے ملحقہ ایک فوجی ہاؤسنگ اسکیم نے قبرستان کی زمین پر غیرقانونی قبضے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اور لوگوں کے جذبات کو روند ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے منظم اور پہلے ڈیجیٹل قبرستان وادی حسینؑ سپر ہائی وے کراچی جس میں ہزاروں شہداء، اولیاء، بزرگان، علماء وذاکرین ، شعراء، نوحہ خواں، منقبت خواں اور عام مرحومین مدفون ہیں پر ایک طاقت ور لینڈ مافیا نے قبضے کا آغاز کردیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز تیزی سے پھیل رہی ہیں جن کے مطابق وادی حسین ؑ قبرستان کے بانڈری وال کو گرا کر ہیوی مشنری قبرستان کی حدود میں داخل ہوگئی ہے جن کے ساتھ مزدوروں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے ۔

ویڈیوز میں واضح نظر آرہا ہے کہ قبرستان کی بائیںجانب سے دیوار گرا کر ہیوی مشنری کو اندر داخل کیا گیا ہے اور زمین کھود کر نئی دیواریں کھڑی کی جارہی ہیں اور قبرستان کی اراضی کو برابر میں قائم ایک نئے ہاؤسنگ پروجیکٹ میں شامل کیا جارہا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر قبرستان پر قبضے میں عسکری 6 کی انتظامیہ ملوث ہے جن کا ایک تازہ پروجیکٹ قبرستان کے بلکل برابر میں کچھ عرصہ قبل ہی آغاز ہوا ہے ۔

واضح رہے کہ یہ خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے اور شہر بھر سے ہزاروں شہداء اور مرحومین کے وارثین اپنے پیارے عزیزوں کی آخری آرام گاہوں کے تحفظ اور اس مقدس قبرستان کے سلامتی کیلئے تیزی سے جوک در جوک وادی حسینؑ پہنچنا شروع ہوچکے ہیں جن کا عزم ہے کہ ہم کسی صورت اپنے عزیزوں کی قبروں کی بے حرمتی اور اس مقدس مقام پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ۔

قانون کہاں ہے؟
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر شہری کو “زندگی اور آزادی” کا حق حاصل ہے، جس میں اس کی مذہبی اور ثقافتی میراث بھی شامل ہے۔ سولہ کورٹس نے بھی بارہا قبرستانوں کی حرمت کو تحفظ دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب طاقتور ادارے خود زمینیں ہڑپ کرنے پر اتر آئیں، تو عوام کے حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

خاموشی کی سیاست
اس معاملے پر حکومتی نمائندوں اور انتظامیہ کی خاموشی سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔ کراچی کے ڈی جی پلاننگ نے تو ایک بیان میں کہا ہے کہ *”قبرستان کی زمین پر کوئی قبضہ نہیں، یہ محض افواہیں ہیں،”* مگر مقامی افراد کی تصاویر اور ویڈیوز اس کے برعکس گواہ ہیں۔

وادیِ حسین کا المیہ صرف ایک قبرستان کی کہانی نہیں، یہ اس نظام کی عکاسی ہے جہاں طاقت کے نشے میں چور لوگ انسانی تکریم کو پامال کرنے پر تل جاتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا: کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہی ورثہ دیں گے کہ “زندہ رہنے کے لیے مردوں کو بھی مارنا پڑتا ہے”؟

قائدِاعظم نے کہا تھا: “پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ۔” لا الہ الا اللہ کا درس دینے والے معاشرے میں اگر مردوں کا احترام نہیں، تو ہم کس منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں؟

تحریر: سید طلعت شاہ

نوٹ: یہ کالم عوامی آگاہی، قانونی چارہ جوئی، اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے لکھا گیا ہے۔ ہماری اپیل ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر وادیِ حسین قبرستان کی زمین کو بازیاب کروائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں