: “ادب میں تتلیاں، پتنگے اور بیساکھیاں” تحریر:رخسانہ سحر

کتنی بد صورت ضرورت ہے تیری
کچھ سہارے اور دو بیساکھیاں

یہ صرف ایک شعر نہیں، ایک پورا منظرنامہ ہے — ہمارے عہد کے ادب کی عکاسی کرتا ہوا۔ ادب، جو کبھی روح کی سچائی، دل کی سادگی اور فکر کی بلندی کا مظہر تھا، آج کل کچھ ایسی “ضرورتوں” کے تابع ہو چکا ہے جو تتلیوں کی مانند رنگ برنگی، اور پتنگوں کی طرح ہلکی پھلکی اور بے وزن ہیں۔

یہ تتلیاں، جو ہر ادبی محفل میں صرف فوٹو فریم کا حصہ بنتی ہیں، اور وہ پتنگے جو ہر روشن چہرے کی طرف لپکتے ہیں، وہ تخلیقی جوہر نہیں رکھتے بلکہ صرف تعلقات، تصویریں، اور تالیوں کی بیساکھیاں سنبھالے ہوئے ہیں۔

ایسے کرداروں کی تعداد روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے جو کتابوں سے نہیں، ناموروں کے کندھوں سے ادب میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ جنہیں الفاظ سے نہیں، حوالوں سے پہچانا جاتا ہے۔ اور پھر ادب کے میدان میں وہ مقام بھی حاصل کر لیتے ہیں جس کے لیے اصل لکھاری برسوں کی ریاضت کرتا ہے۔

ادب کی یہ بد صورتی تب اور بھی نمایاں ہوتی ہے جب اصل اہلِ قلم کو حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ وہ جو خاموشی سے اپنی دنیا کے درد، سماج کی تلخیاں اور دل کی گہرائیاں کاغذ پر اتارتے ہیں، آج داد کے اس بازار میں بے مول ہو چکے ہیں۔

یہ کالم اُنہی لکھنے والوں کی آواز ہے جو تعلقات کی بیساکھیوں کے بغیر جینا جانتے ہیں، جن کے پاس صرف سچائی کا سہارا ہے اور جنہیں “ضرورت” نہیں، صرف اظہار کی طلب ہے۔

ادب کو ضرورت سے نکال کر وقار کی طرف واپس لانا ہوگا۔
اور یہ کام اُنہی ہاتھوں سے ممکن ہے جو بیساکھیوں سے آزاد ہیں۔

وہ دور گیا جب فراق گورکھپوری یا احمد ندیم قاسمی جیسے لوگ برسوں کی محنت، تنہائی اور فکری ریاضت سے ادبی مرتبہ پاتے تھے۔ اب جو ادیب “بیسٹ سیلفی وِد لیجنڈ” کی مہارت رکھتا ہو، وہی معتبر کہلاتا ہے۔

ادب میں تتلیاں ان کرداروں کو کہا جا سکتا ہے جو ہر ادبی تقریب میں کسی نہ کسی مشہور ادیب یا نقاد کے کاندھے پر بیٹھ کر تصویریں کھنچواتی ہیں، اور پھر انہی تصویروں کو بطور سند پیش کر کے “شاعرہ”، “ادیبہ”، یا “تجزیہ نگار” کہلانے لگتی ہیں۔

پھر وہ پتنگے ہیں جو شہرت کے ایک چراغ کی طرف دیوانہ وار لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی غالب کو پڑھا نہیں، مگر اُن پر تبصرہ ضرور کیا ہے۔ جن کی ہر تقریر، ہر تحریر خودنمائی اور تعلقات عامہ کی مشق ہوتی ہے۔

ادب کے ان “سہارا یافتہ” کرداروں کے لیے نہ میر کی نزاکت اہم ہے، نہ فیض کا آہنگ۔ انہیں بس یہ جاننا ہے کہ اگلا مشاعرہ کہاں ہے، کس مشہور شخصیت کی برسی آ رہی ہے، اور کن لفظوں سے داد بٹوری جا سکتی ہے۔

ادبی ایوارڈز کی سیاست ہو یا مشاعروں کے مخصوص چہرے — سب جگہ وہی چالاک تتلیاں اور سجی سنوری بیساکھیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اصل لکھنے والے؟ وہ یا تو “غیر معروف” قرار دے دیے جاتے ہیں، یا “غیر متحرک”، کیونکہ وہ کسی کے قدموں میں نہیں بیٹھتے، کسی گروہ سے نہیں جڑتے۔

یہ کالم دراصل ان سب چہروں کے لیے ایک آئینہ ہے جو خود کو ادیب کہلوانے کے لیے صرف تقریبوں اور تعلقات کا سہارا لیتے ہیں۔
ادب کوئی رنگین اسٹیج نہیں، یہ وہ سچ ہے جو تنہائی میں لکھا جاتا ہے، اور اکثر بغیر داد کے مر جاتا ہے۔

اب وقت ہے کہ ادب کو بیساکھیوں سے آزاد کیا جائے۔ داد اور تصویر سے نکل کر لفظ کی سچائی کی طرف لوٹا جائے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب میر کے دیوان سے زیادہ مقبول کسی نودوستی شاعر کی انسٹا پوسٹ ہو گی — اور وہ بھی صرف اس لیے کہ اس کے ساتھ تصویر میں کوئی “مشہور ادیب” بیٹھا ہے۔
یاد رکھیے، ادب تعلقات کی کرسی پر نہیں، تنہائی کے زخم پر جنم لیتا ہے۔

جیسا کہ انتون چیخوف نے کہا تھا:
“Don’t tell me the moon is shining; show me the glint of light on broken glass.”
(مجھے یہ مت کہو کہ چاند چمک رہا ہے، مجھے ٹوٹی ہوئی شیشے پر پڑتی اس کی کرن دکھاؤ۔)

بس یہی فرق ہے اصل لکھنے والے اور تعلقاتی ادیب میں۔
ایک چمک دکھاتا ہے، دوسرا چمکنے کی کوشش کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں