**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی انتظامیہ نے فضائی میزبانوں (کابینہ عملہ/ایئر کریو) کے لیے ایک نیا اور سخت حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جسے ملازمین کی جانب سے “حکمِ نادر شاہی” قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت فضائی میزبانوں کے پرسنل لگیج (ذاتی سامان) سمیت ہر قسم کے لگیج میں سگریٹ، سگار پائپ، تمباکو اور اس سے متعلقہ دیگر اشیا ساتھ لے جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق، فضائی میزبانوں پر دورانِ پرواز ڈیوٹی، بیرون ملک یا اندرون ملک ہوٹل میں قیام اور دیگر پبلک مقامات پر بھی سگریٹ نوشی کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس اچانک اور سخت فیصلے کے باعث سگریٹ نوشی کے عادی کریو ممبران کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام فضائی میزبانوں کے لیے اس نئی پالیسی پر لازمی عملدرآمد کرنا ہوگا۔ انتظامیہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ جو بھی کریو ممبر اس قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا، اسے فوری طور پر ڈیوٹی سے معطل کر دیا جائے گا اور قواعد و ضوابط کے مطابق اس کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع کی جائے گی۔
سیاسی و سماجی حلقوں اور ایئر لائن ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹمز قوانین کے مطابق بھی ایئر کریو کو ذاتی استعمال کے لیے ایک مخصوص تعداد میں سگریٹ ساتھ رکھنے کی اجازت حاصل ہوتی ہے، تاہم پی آئی اے انتظامیہ کا یہ نیا فیصلہ کسٹمز کے عمومی قوانین سے بھی زیادہ سخت ہے۔
اس معاملے پر پی آئی اے کا مؤقف جاننے کے لیے ادارے کے ترجمان سے ایک سے زائد بار رابطہ کیا گیا، تاہم بارہا رابطے کے باوجود ترجمان پی آئی اے نے اس پالیسی پر اپنے مؤقف سے آگاہ نہیں کیا۔
—
### **حمایت کی اپیل**
ذمہ دار، غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW (ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ)** کی حمایت کریں۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### **اہم نوٹ (ڈسکلیمر)**
یہ خبر پی آئی اے انتظامیہ کے اندرونی ذرائع سے حاصل ہونے والے سرکولر اور فضائی میزبانوں کے بیانات پر مبنی ہے۔ ترجمان کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی شاملِ اشاعت کیا جائے گا۔ HRNW غیر جانبدار اور ذمہ دار رپورٹنگ کے اصولوں پر کاربند ہے۔


