**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی اور اپوزیشن لیڈر کے ایم سی **سیف الدین ایڈوکیٹ** نے سانحہ بلدیہ کیس، ملزمان کی بریت اور دیگر متعلقہ امور پر متاثرین کے اہل خانہ کے ہمراہ ادارہ نور الحق میں پریس کانفرنس کی۔
پریس کانفرنس میں سیکریٹری پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی **نجیب ایوبی**, سیکریٹری اطلاعات **زاہد عسکری**, **محمد صابر** اور دیگر بھی موجود تھے۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ سانحہ بلدیہ پر عدالتی فیصلہ آ چکا ہے، تاہم 259 متاثرہ خاندانوں کو مکمل انصاف نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے اور ایسے اہم مقدمات میں تفصیلی فیصلے جلد جاری ہونے چاہئیں۔
متاثرہ خاندانوں کے مطابق وہ کسی بے گناہ کی سزا نہیں چاہتے، تاہم اصل ذمہ داران کا تعین ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورثاء کی فریق بننے کی درخواست مسترد کیے جانے کی وجوہات قابل قبول نہیں۔
پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ بلدیہ کی دوبارہ تحقیقات کی جائیں تاکہ آگ لگنے کے اصل محرکات اور اس کے پیچھے موجود عوامل سامنے آ سکیں، جن میں مبینہ بھتہ خوری سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔
متاثرین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ جرمن کمپنی کی جانب سے ملنے والے **5.15 ملین ڈالر** متاثرین میں تقسیم کیے جائیں، جبکہ ماضی میں خرچ ہونے والی رقوم کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائی جائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سانحے کے بعد فیکٹری کے اطراف پیش آنے والے واقعات اور متاثرین تک رسائی محدود کیے جانے جیسے معاملات بھی شفاف تحقیقات کا حصہ ہونے چاہئیں۔
—
### حمایت کی اپیل
انصاف، شفافیت اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW (ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ)** کی حمایت کریں۔
**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
—
### اہم نوٹ (ڈسکلیمر)
یہ خبر پریس کانفرنس اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات پر مبنی ہے۔ قانونی فیصلوں اور تحقیقات سے متعلق تمام امور حتمی عدالتی کارروائی اور سرکاری تحقیقات پر منحصر ہیں۔ HRNW غیر جانبدار اور ذمہ دار رپورٹنگ کے اصولوں پر کاربند ہے۔


