ہیٹ اسٹروک ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ (تحریر:سید منور علی شاہ)

پاکستان اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور مختلف شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے اس غیرمعمولی گرمی نے ہیٹ اسٹروک کے خطرات کو بڑھا دیا ہے جس سے انسانی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، خصوصاً بوڑھے افراد، بچے اور مزدور طبقہ زیادہ متاثر ہو رہے ہیںہیٹ اسٹروک ایک ایسی حالت ہے جس میں انسانی جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہو جاتا ہے اور جسم کا قدرتی نظام حرارت کو کم کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے اس حالت میں فوری طبی امداد نہ ملے تو مریض کو جان کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ہیٹ اسٹروک کے اسباب میں سب سے اہم مسلسل سورج کی روشنی میں رہنا، سخت جسمانی مشقت کرنا، اور پانی کی کمی شامل ہیں شدید گرمی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور ناکافی پانی کی فراہمی بھی اس صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے ماحولیاتی تبدیلیاں، درختوں کی کٹائی، شہری آبادی میں اضافے اور کنکریٹ کے جنگل نے گرمی کی شدت کو اور بڑھا دیا ہے شہروں میں گرین ایریاز کی کمی اور بے ہنگم تعمیرات نے قدرتی ہوا کے گزر کو محدود کر دیا ہے ہیٹ اسٹروک سے بچاو¿ کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ دوپہر کے وقت دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا جائے اگر باہر جانا ضروری ہو تو چھتری، ٹوپی یا گیلا کپڑا سر پر رکھیں اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں جو گرمی جذب نہ کریںجسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے لیموں پانی، ستو، شربت، اور دیگر قدرتی مشروبات کا استعمال مفید ہے ایسی جگہوں پر رہیں جہاں ہوا کا گزر ہو اور جسم کو ٹھنڈا رکھا جا سکے حکومت کو چاہیے کہ ہیٹ ویو کے دوران عوام کو بروقت خبردار کرے، ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے جائیں اور عوامی مقامات پر ٹھنڈے پانی کے اسٹالز قائم کیے جائیں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیںہیٹ اسٹروک ایک قدرتی آفت بن چکا ہے جس کا سامنا ہمیں اجتماعی طور پر کرنا ہوگاانفرادی، معاشرتی اور حکومتی سطح پر اقدامات کے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں ہمیں نہ صرف موجودہ حالات کا سامنا کرنا ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے مستقل اقدامات بھی کرنے ہوں گے دیہی علاقوں میں بھی ہیٹ اسٹروک کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جہاں طبی سہولیات محدود ہوتی ہیں کھیتوں میں کام کرنے والے کسان، خواتین اور مویشی چرانے والے افراد خاص طور پر خطرے میں ہوتے ہیں ان علاقوں میں آگاہی مہمات اور موبائل میڈیکل یونٹس کی اشد ضرورت ہے تاکہ وقت پر طبی امداد فراہم کی جا سکے ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کے لیے ہمیں طرزِ زندگی میں بھی تبدیلی لانا ہوگی صبح سویرے یا شام کے وقت کام کرنے کی عادت اپنانی چاہیے، جبکہ اسکولوں، دفاتر اور دیگر اداروں کے اوقاتِ کار بھی گرمی کے لحاظ سے ترتیب دیے جائیں اجتماعی شعور اور حکمت عملی سے ہی ہم اس خطرناک صورتحال پر قابو پا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں