21

عمران خان سے ملاقات اور ٹیلیفونک گفتگو نہ کروانے پر دوسری توہینِ عدالت درخواست دائر

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج معالجے اور اسپتال منتقلی کے معاملے پر ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دوسری توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی۔

درخواست میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے اور ان کے بچوں سے ٹیلیفونک گفتگو نہ کروانے پر عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق سپریم کورٹ کے **18 اگست کے عدالتی حکم** پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی، جبکہ ڈاکٹر عظمیٰ خان، علیمہ خان اور قاسم زمان کو بھی ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔

توہینِ عدالت کی درخواست کے ساتھ اضافی دستاویزات بھی جمع کرائی گئی ہیں، جبکہ ان دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لیے دو متفرق درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔

دوسری توہینِ عدالت کی درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف کو بھی فریق بنایا گیا ہے، جبکہ چیف کمشنر، سیکرٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی حکم کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے متعلق توہینِ عدالت کیس کے اصول کا اطلاق موجودہ معاملے پر بھی کرنے کی استدعا کی ہے۔

درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ **18 اگست کے عدالتی حکم پر عملدرآمد** کرایا جائے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور قاسم زمان سے ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔

درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی بیٹیوں سے ٹیلیفونک گفتگو کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

زیرِ حراست یا قید افراد کو قانونی طور پر دستیاب ملاقات، علاج معالجے اور اہلِ خانہ سے رابطے کے حقوق کی فراہمی قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کا اہم حصہ ہے۔

عدالتی احکامات پر عملدرآمد ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ حکام کو عدالتی ہدایات کی مکمل پابندی، شفاف طریقہ کار اور قیدی کے قانونی و انسانی حقوق کو یقینی بنانا چاہیے۔

ساتھ ہی توہینِ عدالت سے متعلق کسی بھی دعوے کا حتمی تعین عدالت ہی شواہد، فریقین کے مؤقف اور متعلقہ قانونی اصولوں کی روشنی میں کرے گی۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور درخواست میں اختیار کیے گئے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالتی درخواست میں عائد کیے گئے الزامات اور مؤقف کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق تصور نہ کیا جائے۔ معاملے کی حتمی قانونی حیثیت متعلقہ عدالت کے فیصلے اور عدالتی کارروائی سے طے ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں