دنیا کے دو بڑے دہشتگرد (تحریر: سید منور علی شاہ)

بھارت ایک دہشتگرد ملک ہے اس کا وزیر اعظم بھی دنیا کا بڑا دہشتگرد ہے بھارتی وزیر اعظم کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جب وہ بھارت کاوزیر اعظم نہیں تھا تو اسے امریکن ویزا نہیں ملاتھا اور اسے امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں ملی تھی آج مودی جو کچھ بھی کر رہا ہے وہ اسرائیل کا منشورہے اسرائیل مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے جبکہ بھارت میں بھی مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ان کے گھر توڑے جارہے ہیں ان پر زمین تنگ کی جارہی ہے جسے اسرائیل میں بے گناہ اقلیتوں کوقتل کیا جارہا ہے انہیں بھوکا پیاساقتل کیا جارہا ہے اسرائیلی فوج معصوم بچوں ،عورتوں اور بوڑھے افراد کو قتل کر رہی ہے جس کے خلاف صرف مسلم ممالک میں ہی نہیں بلکہ اسرائیل میں بھی اب آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں چونکہ ظلم جب بڑھے گا تو اس کے خلاف کیا کیا جائے جب تک دنیا کے دو بڑے دہشتگرد یعنی مودی اور نیتن یاہوزندہ ہیں دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک یہ دونوں وزیر اعظم کے عہدوں پر رہیں گے دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا پورے خطے سے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے جب تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک دنیا میں امن قائم نہیں ہوگا اور نہ ہی خوشحالی آئے گی پاکستان دہشتگردی کا سب سے زیادہ شکار ہوا ہے اور سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے ہی دی ہیں جس کا پوری دنیا اعتراف کرتی ہے بھارت پاکستان میں دہشتگردی کرواتا ہے اور دہشتگردوں کو سپورٹ کرتا ہے بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان یا دنیا میں امن قائم ہو پاکستان ترقی کرے ،خوشحالی آئے بھارت وہ واحد ملک ہے جو اقلیتوں کو نقصان پہنچاتا ہے چاہے وہ کرسچن ہوں،مسلم ہوںیا نچلی ذات کے ہندو ہوں،سکھ ہوں آر ایس ایس کا منشور ہے کہ ہندوستان میں صرف ہندو رہیں گے جبکہ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ایک قوم یا ایک مذہب کے لوگ رہیں اور بھارت تو ایسا ملک ہے جہاں صدیوں سے مسلمان،ہندو،فارسی،کرسچن یا کوئی بھی مذہب ہو اس کے لوگ وہاں رہتے ہیں اور مسلمان تو ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت ہے اور کئی صدیوں سے وہ وہاں آباد ہے کئی صدیاں مسلمانوں کی حکومت وہاں رہی ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ ہندوستا میں صرف ہندو ہی رہیں آج بھارت کی حکومت مسلمان بادشاہوں کی جانب سے بنائی گئی مساجدکو منہدم کررہی ہے جس میں بابری مسجد مسلمانوں کی کئی صدی پرانی عبادت گاہ ہے واضع رہے کہ انڈیا میں ہندو ایک تعصب والی قوم ہے وہ جانوروں جن میں گائے شامل ہے جسے وہ گﺅ ماتا کہتے ہیں مگر انسان کو اچھے القاب سے نہیں نوازتے مودی اس قدر تعصبی شخص ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ کرسچن اور دلت تک کے خلاف بھی زہر اگلتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک بھارت نہ ترقی کر سکا ہے اور نہ وہاں خوشحالی آسکی آپ اس بات سے بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کے ایک ارب چالیس لاکھ آبادی ہونے کے باوجود وہاں کے گھروں میں واش رومز نہیں ہوتے اور ہندوستان کی بڑی آبادی رفع حاجت کے لئے کھیتوں اور ریل کی پٹھریوں پر جاتے ہیںدوسری بات یہ ہے کہ بھارت کا چاہے سیاستدان ہو یا کوئی بزنس مین سب جھوٹ بولتے ہیں پاکستان کے ساتھ تو بھارت کی ایک ازلی دشمنی ہے جس کی وجہ سے چاہے جنگ ہو یا امن وہ ہر چیز میں جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں ان کا میڈیا بھی ایسا ہی ہے ظاہرہے کہ ان کا میڈیا اسی معاشرے کا حصہ ہے جو اپنی ہی عوام کو دھوکا دیتا ہے وہاں ہر کوئی ڈرامے باز ہے آپ اس بات سے بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کے پوری دنیا میں سب سے زیادہ ڈرامے اور فلمیں بھارت میں بنتے ہیں جبکہ امریکہ اتنا بڑا ملک ہونے کے باوجود وہاں اتنی فلمیں نہیں بنتی جتنے بھارت میں بنتی ہیں اور فلمیں اور ڈرامے تو ہوتے ہی ہیں جھوٹ پر مبنی بھارت چاہے کچھ بھی کرلے کتنا ہی جھوٹ بولے لیکن سچ تو سچ ہوتا ہے اور کبھی نہ کبھی تو وہ سچ نظر بھی آتا ہے ،سنائے بھی دیتا ہے اور دیکھائے بھی دیتا ہے اور اس کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا جیسا کہ ابھی حالیہ پاک بھارت جنگ اس کا میڈیا اپنی عوام کو جھوٹ بول بول کر پاکستان کے خلاف کر رہا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جنگ میں بھی فتح دی جو پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے اتنے بڑے ملک کو کس طرح شکست دی چونکہ ہمارے پاس جذبہ ایمانی ہے جس کے بل بوتے میں ہم نے انڈیا کو جنگ میں شکست دی اور بھارت شکست کے بعد ہاتھ ملتا رہ گیا انشاءاللہ تعالیٰ اسی طرح اسرائیل بھی شکست خوردہ ہوگا چونکہ وہ مسلمانوں کو خصوصاََ چھوٹے معصوم بچوں اور عورتوں کو شہید کر رہا ہے اللہ نے چاہا تو اسی طرح اسرائیل بھی صفح ہستی مٹ جائے گا دنیا کا ایک قانون ہے جنگ میں کبھی بھی عورتوں،بچوں یا بوڑھے افراد کو نہیں مارا جاتا مگر اسرائیل نے جنگ کا یہ قانون بھی ماننے سے ہی انکار کردیا اب تک ہزاروں معصوم بچوں ،عوتوں اور بوڑھے افراد کو شہید کیا وہ کسی بھی قانون کو نہیں مانتا اسرائیل نے فلسطین کی زمین پر ناجائز طور پر قبضہ کیا ہوا ہے آج پوری دنیا اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہی ہے مگر اسرائیل کسی کی بات کو تسلیم نہیں کرتا وہ غزہ میںمسلمانوں کو بھوکا پیاسا شہید کر رہا ہے اس میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے نیتن یاہو کہتا ہے کہ فلاں تاریخ تک ہم پورے غزہ پر قبضہ کر لیں گے کبھی بارود سے فلسطین کو ختم ہونے کا دعوہ کرتا ہے کبھی وہ شام میں میں بمباری کرتا ہے اور کبھی وہ لبنان میں بمباری کرتا ہے اور کبھی غزہ میں لیکن ایک دن اسرائیل کے خاتمے کا دن بھی آئے گا ہٹلر نے یہودیوں کے گاجر مولی کی طرح کاٹ کر قتل کردیا تھا صرف چند ایک یہودی کو چھوڑدیا تھا جس طرح یہودیوں نے ظلم اور بربریت کی مثال قائم کر رکھی ہے اس کی کہیں اور مثال نہیں ملتی اور انشا ءاللہ تعالیٰ دنیا دیکھے گی کہ فلسطین آزاد ہوجائے گا اور یہودی نیتن یاہو برباد ہوجائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں