22

افغان شہریوں کے لیے مبینہ جعلی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے میں چار ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں **وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)** نے چار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔

پیش کیے گئے ملزمان میں **انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر** شامل ہیں۔

عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا منظور کرتے ہوئے چاروں ملزمان کا **دو روزہ جسمانی ریمانڈ** منظور کر لیا تاکہ مزید تفتیش مکمل کی جا سکے۔

سماعت کے دوران ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان مبینہ طور پر افغان شہریوں کے لیے **جعلی شناختی دستاویزات کی تیاری کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل** کرتے تھے۔

ایف آئی اے نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ابتدائی تفتیش میں ملزمان کے **مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر سے روابط** کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

عدالت نے ملزمان کو مقررہ مدت کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کرتے ہوئے تفتیشی پیش رفت کے ساتھ آئندہ سماعت پر دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے مطابق ہر ملزم کو منصفانہ سماعت، قانونی دفاع اور بے گناہی کے اصول کا حق حاصل ہے، جبکہ الزامات کا حتمی فیصلہ شواہد کی بنیاد پر مجاز عدالت ہی کرتی ہے۔

🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر عدالتی کارروائی اور ایف آئی اے کے پیش کردہ مؤقف پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) کسی بھی الزام یا دعوے کی آزادانہ توثیق نہیں کرتا۔ ملزمان کو قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک کسی مجاز عدالت کی جانب سے جرم ثابت نہ ہو جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں