کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ ہائیکورٹ میں تھانہ شاہراہ فیصل سے 2018 سے لاپتا شہری کی گمشدگی کی درخواست
عدالت کا سیکشن آفیسر ہوم ڈیپارٹمنٹ پر اظہار برہمی ، عدالت نے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کو 12 بجے طلب کرلیا
عمر صدیق 2018 سے تھانہ شاہراہ فیصل کی حدود سے لاپتا ہیں،وکیل درخواست گزار
7 برس گزر چکے ہیں تاحال لاپتا شہری کا کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا،وکیل درخواست گزار
بتائیں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟،عدالت کا سرکاری وکیل سے استفسار
لاپتا شہری کی جبری گمشدگی کا تعین ہوگیا یے،سرکاری وکیل
سندھ حکومت کی جانب سے شہری کے اہلخانہ کی مالی معاونت کے لیے سمری منظور ہوچکی ہے،سرکاری وکیل
شہری کے اہلخانہ کو ہیئرشپ سرٹیفکیٹ بنانے کا کہا گیا ہے،سرکاری وکیل
عدالت کا سرکاری وکیل پر اظہار برہمی
کیا لاپتا شہری کی موت ثابت ہوچکی یے؟،عدالت
جب یہ ثابت ہی نہیں ہوا کہ لاپتا شہری زندہ ہے یا نہیں تو ہیئر شپ سرٹیفکیٹ کیسے بنایا جاسکتا یے؟،عدالت
ہیئرشپ سرٹیفکیٹ بنانے کی شرط کس کی جانب سے رکھی گئی؟،عدالت
اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کی جانب سے ہیئرشپ سرٹیفکیٹ بنوانے کا کہا گیا ہے،سیکشن آفیسر
عدالت کا 12 بجے تک اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کو عدالت پیش ہونے کا حکم
اکاؤنٹنٹ جنرل عدالت پیش ہو کر جواب دیں


