**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس کراچی آزاد خان نے بھتہ خوری، منظم جرائم، قبضہ مافیا اور منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں پرامن اور محفوظ کاروباری ماحول کی فراہمی سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے کیونکہ شہر کی تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کا تحفظ قومی معیشت کے استحکام سے جڑا ہوا ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد خان نے کہا کہ دہشت گردی، بھتہ خوری اور اسٹریٹ کرائم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اہم چیلنجز ہیں، تاہم انٹیلیجنس اداروں کے تعاون اور مؤثر پولیسنگ کے باعث بڑے جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھتہ خوروں، قبضہ مافیا، منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں سندھ میں دہشت گردی کے واقعات 37 سے کم ہو کر رواں سال صرف 8 رہ گئے ہیں، جبکہ کوئی بڑا دہشت گرد حملہ رپورٹ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق مؤثر انٹیلیجنس، پیشگی کارروائیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مجموعی اسٹریٹ کرائم میں تقریباً 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ڈکیتی کے دوران قتل کے واقعات میں تقریباً 30 فیصد، زخمی ہونے کے واقعات میں 40 فیصد، گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 30 فیصد جبکہ موٹر سائیکل اور گاڑی چوری کے واقعات میں تقریباً 20 فیصد کمی آئی ہے، اگرچہ موبائل فون چھیننے کے واقعات میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
بھتہ خوری کے خلاف کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے آزاد خان نے کہا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پولیس مقابلوں میں 9 مبینہ بھتہ خور ہلاک، تقریباً 15 زخمی جبکہ 61 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے خلاف حکومتی پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری ہیں اور شہری انہیں ملازمت یا رہائش فراہم کرنے سے گریز کریں۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ نئے ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کے بعد ہیوی وہیکل حادثات میں اموات میں 40 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ تقریباً 60 قیمتی جانیں بچانے اور 217 افراد کو شدید زخمی یا مستقل معذوری سے محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں پہلی مرتبہ ٹریفک جام کے اسباب پر جامع سائنسی تحقیق بھی شروع کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ٹریفک انجینئرنگ اور انتظامی اصلاحات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے جوڑیا بازار، کلاتھ مارکیٹ اور دیگر ہول سیل تجارتی مراکز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تجاوزات، ٹریفک اور سیکیورٹی کے مسائل کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہر بڑی مارکیٹ کے لیے پولیس فوکل پرسن مقرر کرنے اور آن لائن ایف آئی آر رجسٹریشن سسٹم متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی۔
بی ایم جی کے وائس چیئرمین انجم نثار نے پولیس اور تاجر برادری کے درمیان مسلسل رابطوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر مکالمہ ہی سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے۔
صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ریحان حنیف نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم اسٹریٹ کرائم اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے پولیس قیادت پر زور دیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مزید مؤثر کارروائیاں کی جائیں اور سیف سٹی منصوبے کے تحت نگرانی کے کیمروں کا دائرہ پورے شہر تک وسیع کیا جائے تاکہ جرائم کی روک تھام اور عوامی اعتماد میں مزید اضافہ ہو سکے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک نہیں ہے اور نہ ہی پہلے یہاں شائع کی گئی ہے۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی کے لیے فراہم کر رہا ہے۔ خبر میں شامل اعداد و شمار اور بیانات متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر مبنی ہیں، جن میں بعد ازاں سرکاری اپ ڈیٹس کے مطابق تبدیلی ممکن ہے۔


