**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں اس وقت تقریباً 46 لاکھ موٹر سائیکلیں موجود ہیں، جن میں سے لگ بھگ 60 فیصد پر جعلی یا غیر قانونی نمبر پلیٹس لگی ہوئی ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جعلی نمبر پلیٹس نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ جرائم کی تفتیش اور ملزمان کی شناخت میں بھی بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے مختلف اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت تھا جب شہر کی سڑکوں پر تقریباً 9 ہزار بسیں چلتی تھیں، لیکن بدقسمتی سے آج ان کی تعداد کم ہو کر صرف 2 ہزار رہ گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دوسری جانب شہر میں رکشوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث ٹریفک کے بہاؤ، شہری نقل و حمل اور سڑکوں پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پیر محمد شاہ کے مطابق کراچی جیسے بڑے شہر میں جدید، محفوظ اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جعلی نمبر پلیٹس کے خاتمے اور ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک نہیں ہے اور نہ ہی پہلے یہاں شائع کی گئی ہے۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی کے لیے فراہم کر رہا ہے۔ خبر میں شامل اعداد و شمار متعلقہ حکام کے بیانات پر مبنی ہیں، جن کی مزید تصدیق یا تازہ کاری سرکاری اداروں کی جانب سے کی جا سکتی ہے۔


