5

ریاستی اجازت کے بغیر مسلح کارروائی اسلام میں ناجائز ہے، مفتی عبد الرحیم

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) جامعہ الغزالی یونیورسٹی کے چانسلر مفتی عبد الرحیم نے کہا ہے کہ اسلامی شریعت میں ریاست کی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی یا عسکری گروہ قائم کرنا جائز نہیں ہے۔

وہ کراچی یونیورسٹی کے سیراۃ چیئر کے زیر اہتمام آڈیو ویژول سینٹر میں منعقدہ سیمینار “پیغامِ پاکستان اور سیرت النبی ﷺ” سے خطاب کر رہے تھے۔

مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کا اختیار ہے، اس لیے کسی فرد یا تنظیم کو اپنی طرف سے مسلح کارروائی، قانون ہاتھ میں لینے یا کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط اور باصلاحیت ریاست کے طور پر دنیا میں پہچانا جاتا ہے، اور دشمن عناصر مذہب اور قومیت کے نام پر ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش کر رہے ہیں جنہیں قومی اتحاد اور شعور کے ذریعے ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

مفتی عبد الرحیم کے مطابق تعلیمی اداروں، اساتذہ اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت کریں تاکہ وہ گمراہ کن نظریات اور منفی پروپیگنڈے سے محفوظ رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ ایران-امریکہ کشیدگی کے دوران دنیا کی توجہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر رہی اور پاکستان اپنی عسکری اور سائنسی ترقی کے باعث عالمی سطح پر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ معاشرتی بہتری کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنانا ضروری ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور اخلاقی گراوٹ کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیغامِ پاکستان دراصل امن، اعتدال اور قومی اتحاد کا پیغام ہے، جبکہ پاکستان کو مضبوط دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کی بھی ضرورت ہے۔

سیمینار میں دیگر مقررین نے بھی پاکستان کے پرامن کردار اور علمی و اخلاقی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں