**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** حج 2027 کی تیاریوں کے آغاز سے قبل ہی حکومت کی جانب سے بینکاری انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے **ایچ بی ایل اسلامک** کو حج 2027 کے لیے خصوصی بینکنگ پارٹنر مقرر کیا ہے، تاہم اس انتخاب کے طریقہ کار اور قانونی و انتظامی بنیاد پر شفافیت کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
10 اگست 2026 کو جاری اعلان کے مطابق ایچ بی ایل اپنے اسلامی بینکاری شعبے کے ذریعے عازمین حج سے حج واجبات وصول کرے گا، جبکہ وزارت نے ایچ بی ایل اسلامک میں ایک خصوصی **شریعہ کمپلائنٹ اکاؤنٹ** بھی قائم کیا ہے۔ عازمین حج وزارت کے آن لائن ویب پورٹل سمیت ڈیجیٹل ذرائع سے بھی واجبات ادا کر سکیں گے۔
بظاہر اس انتظام کا مقصد حج درخواست اور ادائیگی کے عمل کو ڈیجیٹل، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ معاہدے پر اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔
### دیگر بینکوں کو مسابقت کا موقع کیوں نہیں دیا گیا؟
اس انتظام کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ایچ بی ایل اسلامک کو خصوصی حیثیت دینے کے لیے **کون سا شفاف اور مسابقتی طریقہ کار** اختیار کیا گیا؟
کیا دیگر اہل بینکوں سے بولیاں یا تجاویز طلب کی گئیں؟ کیا کسی ٹینڈر، ایکسپریشن آف انٹرسٹ یا مسابقتی انتخاب کے عمل کے ذریعے بینک کا انتخاب کیا گیا؟ اہلیت کے معیار اور تکنیکی و مالی تجاویز کے جائزے کے پیمانے کیا تھے؟
عوامی مفاد کے نقطہ نظر سے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ملک کے دیگر اسلامی بینکاری اداروں اور وسیع برانچ و ڈیجیٹل نیٹ ورک رکھنے والے بینکوں کو اس ذمہ داری کے لیے مسابقت کا موقع کیوں نہیں دیا گیا۔
### سرکاری خریداری اور آئی ایم ایف سے متعلق سوالات
یہ معاملہ سرکاری خریداری میں شفافیت کے وسیع تر اصولوں کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر سرکاری خریداری کے بعض معاملات میں بغیر مسابقتی ٹینڈر کے فیصلوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں تو وزارت مذہبی امور کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ واضح کرے کہ حج 2027 کے اس خصوصی بینکاری انتظام کو **قابلِ اطلاق خریداری، شفافیت اور مالیاتی قواعد** کے تحت کس بنیاد پر درست قرار دیا گیا۔
ممکن ہے اس تقرری کے پیچھے مکمل طور پر قانونی، شفاف اور مضبوط انتظامی جواز موجود ہو۔ ایسی صورت میں وزارت کی جانب سے متعلقہ تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے غیر ضروری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔
### عازمین حج کے مالی حقوق اور اعتماد کا معاملہ
حج پروگرام ہزاروں پاکستانی شہریوں کی جمع پونجی اور زندگی بھر کی بچت سے وابستہ ہوتا ہے۔ عازمین حج کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رقوم، ان کی واپسی، مالی مفاہمت، لین دین کا تحفظ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام **اعلیٰ ترین شفافیت اور جواب دہی** کا تقاضا کرتا ہے۔
**HRNW کے مطابق** حج کے انتظامات میں شفافیت صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ عازمین حج کے مالی حقوق، مساوی مواقع، معلومات تک رسائی اور عوامی اعتماد کے تحفظ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
یہ معاملہ ایچ بی ایل اسلامک کی بینکاری صلاحیت یا شریعہ کمپلائنٹ خدمات پر اعتراض کا نہیں، بلکہ ایک نجی ادارے کو خصوصی حیثیت دینے کے **طریقہ کار اور جواز** سے متعلق ہے۔
### وزارت سے مکمل تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ
وزارت مذہبی امور کو چاہیے کہ وہ واضح کرے کہ:
* ایچ بی ایل اسلامک کے انتخاب کے لیے کون سا قانونی طریقہ اختیار کیا گیا؟
* کیا دیگر بینکوں کو مسابقت کا موقع دیا گیا؟
* انتخاب کے لیے کیا اہلیت اور تکنیکی و مالی معیار مقرر کیے گئے؟
* خصوصی بینکنگ پارٹنرشپ کی مدت اور دائرۂ کار کیا ہے؟
* اس انتظام کی مالی شرائط کیا ہیں؟
* کیا حکومت کو اس معاہدے سے کوئی مالی فائدہ یا کم ٹرانزیکشن لاگت حاصل ہوگی؟
* کیا یہ انتظام صرف حج واجبات کی وصولی تک محدود ہے یا حج کے پورے مالیاتی نظام تک پھیلا ہوا ہے؟
* عازمین حج کے مالی مفادات اور ڈیجیٹل لین دین کے تحفظ کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں؟
### انسانی حقوق کا پہلو
حج ایک مذہبی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہزاروں شہریوں کے مالی وسائل، معلومات تک رسائی اور سرکاری خدمات سے جڑا پروگرام بھی ہے۔ **HRNW کے مطابق** عوامی رقم سے متعلق کسی بھی سرکاری انتظام میں شفافیت، جواب دہی، مساوی مواقع اور غیر امتیازی رسائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
عازمین حج کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ ان کی جمع کرائی جانے والی رقوم کس نظام کے تحت وصول، محفوظ اور منتقل کی جائیں گی اور اس نظام میں ان کے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا ضمانتیں موجود ہیں۔
حج 2027 کی درخواستوں کا باقاعدہ آغاز ابھی ہونا باقی ہے، اس لیے وزارت کے پاس موقع ہے کہ وہ بینکاری انتظام سے متعلق تمام بنیادی سوالات کے جوابات پہلے ہی عوام کے سامنے رکھ کر **اعتماد، شفافیت اور جواب دہی** کو یقینی بنائے۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، شفاف حکمرانی، آزاد صحافت اور عوامی مفاد کی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**Disclaimer:** یہ رپورٹ دستیاب معلومات اور اٹھائے گئے عوامی مفاد کے سوالات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ایچ بی ایل اسلامک یا وزارت مذہبی امور کے خلاف کسی غیر قانونی اقدام کا دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔ متعلقہ اداروں کو اپنے انتخابی طریقہ کار اور قانونی جواز کی وضاحت کا حق حاصل ہے۔ HRNW غیر جانب دارانہ صحافت، شفافیت اور انسانی حقوق کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔


