**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے چاروں صوبوں میں دھرنے دوسرے روز بھی جاری ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس جبکہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز کے باہر جماعت اسلامی کے کارکنان دوسرے روز بھی دھرنوں میں موجود ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور پیٹرول کی قیمت **225 روپے فی لیٹر** مقرر کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام پر اضافی مالی بوجھ ناقابل قبول ہے اور پیٹرولیم لیوی کے نام پر وصولی کو بھتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
### انسانی حقوق کا پہلو
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور ان پر عائد ٹیکس و لیوی براہِ راست عام شہریوں کی معاشی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ایندھن کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات زندگی کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے اور کمزور طبقات پر پڑتا ہے۔
**HRNW کے مطابق** عوام کو معاشی دباؤ سے تحفظ، مناسب معیارِ زندگی اور بنیادی ضروریات تک قابلِ رسائی کو انسانی حقوق کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ریاستی معاشی پالیسیوں میں عوام کی قوتِ خرید اور کمزور طبقات کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
دوسری جانب احتجاج اور دھرنا شہریوں کے پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوامی احتجاج کے حق کا احترام کرتے ہوئے عوامی مشکلات اور معاشی مطالبات پر بامعنی مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔
جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج اور دھرنے جاری رہیں گے۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، عوامی مسائل اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**Disclaimer:** یہ خبر دستیاب معلومات اور متعلقہ فریق کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کردہ سیاسی مؤقف متعلقہ فریق سے منسوب ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق تجزیاتی پہلو HRNW کے ادارتی تناظر میں پیش کیے گئے ہیں۔


