**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ کرنا آئی ایس پی آر کا کام نہیں، یہ ایک سیاسی اور آئینی معاملہ ہے جس کا فیصلہ متعلقہ سیاسی اور آئینی فورمز پر ہونا چاہیے۔
سعید غنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ **“جو مرضی کرلیں، سندھ میں نیا صوبہ نہیں بنے گا۔”** ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم یا نئے صوبے کے قیام کی کوئی تجویز قابلِ قبول نہیں اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کا مؤقف واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل یا انتظامی حدود میں تبدیلی جیسے معاملات آئین اور پارلیمانی عمل کے تحت طے کیے جانے چاہئیں، جبکہ کسی بھی فیصلے میں عوامی رائے اور سیاسی اتفاقِ رائے کو اہمیت حاصل ہے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث کا تعلق صرف سیاسی حدود سے نہیں بلکہ **عوام کی سیاسی نمائندگی، مساوی ترقی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی سطح پر حکمرانی** جیسے بنیادی معاملات سے بھی ہے۔
**HRNW کے مطابق** انتظامی تبدیلیوں سے متعلق کسی بھی بحث میں شہریوں کے سیاسی و جمہوری حقوق، مساوی مواقع اور تمام علاقوں کے عوام کے مفادات کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ ایسے معاملات کا حل آئینی، جمہوری اور پُرامن سیاسی عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا ضروری ہے۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، آزاد صحافت اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**Disclaimer:** یہ خبر صوبائی وزیر سعید غنی کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کردہ سیاسی مؤقف متعلقہ فریق سے منسوب ہیں۔ HRNW تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف پیش کرنے اور غیر جانب دارانہ صحافت کے اصولوں کی پابندی کرتا ہے۔


