19

گلشن روفی/پرائیڈ بلڈر اسکیم 33 کے 650 متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی، عدالت کا سخت ردِعمل

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ ہائیکورٹ میں گلشن روفی/پرائیڈ بلڈراسکیم33 کے متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالتی احکامات کے باوجود بلڈرز کی جانب سے متاثرین کو پلاٹس لیز پر نہ دینے کا انکشاف سامنے آیا۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 60 متاثرین کی فہرست بلڈرز کو فراہم کی جاچکی ہے، تاہم ملزمان کے رویے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ متاثرین کو پلاٹس لیز پر دینا ہی نہیں چاہتے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ بارہا کہنے کے باوجود بلڈرز نے متاثرین کی داد رسی کے لیے فوکل پرسن مقرر نہیں کیا۔

معزز جج جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ اگر بلڈرز متاثرین کی داد رسی نہیں کررہے تو ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے۔ اس پر بلڈرز کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب کی جانب سے پیش کی گئی تصویر درست نہیں۔

عدالت نے متاثرین سے متعلق سوال کرتے ہوئے استفسار کیا کہ پلاٹس کب بک کرائے گئے تھے، جس پر وکیلِ متاثرین ملک الطاف جاوید نے بتایا کہ 1992 میں پلاٹس بک کرائے گئے، مگر تاحال نہ لیز دی گئی اور نہ ہی پلاٹس حوالہ کیے گئے۔ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق 622 متاثرین نے نیب میں شکایات درج کروا رکھی ہیں۔

عدالت نے بلڈرز کی جانب سے تعاون نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزمان سات روز میں احتساب عدالت میں پیش ہوکر عبوری ضمانت حاصل کرسکتے ہیں۔

ملزمان بلڈرز میں رحمت الٰہی، سابق سینیٹر قاسم لاسی اور منظور روفی شامل ہیں۔ وکیلِ درخواست گزار کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود 800 سے زائد متاثرین کو پلاٹس فراہم نہیں کیے جا رہے، جبکہ او ڈی سی چارجز میں کروڑوں روپے کے فراڈ اور ترقیاتی کام نہ کرانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

وکیل نے مزید بتایا کہ متاثرین نے گلشن روفی اسکیم 33 کے سیکٹر 21 بی، 19 بی، 6 سی اور 6 بی میں پلاٹس بک کرائے تھے، جبکہ بعض متاثرین کو فلاحی پلاٹس (اسکول، کالجز اور پلے گراؤنڈز) پر لیز دے کر سنگین فراڈ کیا گیا۔ عدالت سے سندھ ہائیکورٹ کے 2020 کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کا حکم دینے کی استدعا کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں