کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)انمول عرف پنکی کے خلاف گارڈن تھانے میں درج منشیات کیس میں ریمانڈ اور تفتیش سے متعلق مختلف درخواستوں پر عدالت میں سماعت ہوئی۔
تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ اور شریک ملزمان ذیشان اور سہیل سے برآمد موبائل فونز سے اہم شواہد حاصل ہوئے ہیں، اور مزید تفتیش کے لیے ان کی کسٹڈی ضروری ہے۔
ریکارڈ کے مطابق شریک ملزمان کو 16 مئی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں ڈیوٹی مجسٹریٹ نے مختلف مقدمات میں الگ الگ فیصلے جاری کیے۔
عدالت نے قرار دیا کہ بعض مقدمات میں ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا جبکہ دیگر میں جیل کسٹڈی دی گئی، تاہم بعد ازاں ریمانڈ سے متعلق فیصلوں پر نظر ثانی کی گئی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ شریک ملزمان کے موبائل فونز سے حاصل شدہ شواہد کی فارنزک اور آن لائن ویریفکیشن کے ذریعے بھی جانچ ممکن ہے، اس لیے مزید جسمانی کسٹڈی کی ضرورت ثابت نہیں ہوئی۔
عدالت نے شریک ملزمان کے ریمانڈ سے متعلق نظر ثانی کی درخواست کو میرٹ کے مطابق نہ ہونے پر مسترد کر دیا۔
مزید کہا گیا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ کے بعض فیصلوں میں مداخلت کی ضرورت نہیں، جبکہ تفتیشی افسر کی درخواست بھی منظور نہ کی گئی۔


