**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):**کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6، خیابانِ بخاری میں دو خواتین کے درمیان جھگڑے اور مبینہ تشدد کے واقعے پر پولیس نے انکوائری کا فیصلہ کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا نے واقعے کی مکمل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے دوران مقدمے کے اندراج کی وجوہات، واقعے کے حقائق اور پولیس اہلکاروں کے کردار سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق انکوائری کی ذمہ داری ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ کو سونپ دی گئی ہے، جبکہ واقعے کی فوٹیج میں نظر آنے والے پولیس اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔
تفتیشی پولیس کے مطابق مقدمے کا چالان تاحال عدالت میں جمع نہیں کرایا گیا، جبکہ مقدمے سے چھینا جھپٹی اور چوری کی دفعات خارج کردی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اندراج میں جانبداری ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
### سی سی ٹی وی فوٹیج میں کیا سامنے آیا؟
واقعے سے متعلق سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز کے مطابق ایک خاتون دو باوردی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ سیڑھیوں سے نیچے آئیں، جبکہ ان کے ہاتھ میں ورزش کے لیے استعمال ہونے والا ڈمبل موجود تھا۔ فوٹیج میں خاتون کو دوسری خاتون پر مبینہ طور پر حملہ کرتے اور گالم گلوچ کرتے دیکھا گیا۔
فوٹیج کے مطابق وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی، تاہم خاتون مبینہ طور پر مسلسل حملہ کرتی رہیں۔
بعد ازاں فلیٹ کے اندر موجود ایک خاتون نے متاثرہ خاتون اور اس کے شوہر کو اندر کھینچ کر دروازہ بند کرلیا۔ کچھ دیر بعد ایک سادہ لباس شخص ایک پولیس اہلکار کے ہمراہ وہاں پہنچا اور دروازہ کھلوانے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق اسی دوران جھگڑا کرنے والی خاتون نے مبینہ طور پر سادہ لباس شخص کو کیمرہ توڑنے کے لیے کہا، کیونکہ واقعے کی ریکارڈنگ کی جارہی تھی۔ اس کے بعد سادہ لباس شخص نے ساتھ موجود پولیس اہلکار کی سرکاری کلاشنکوف لے کر سی سی ٹی وی کیمرے کو مبینہ طور پر توڑ دیا، جس کے بعد ریکارڈنگ متاثر ہوگئی۔
### متاثرہ فیملی کو مبینہ طور پر حراست میں لینے کا معاملہ
واقعے کے بعد سامنے آنے والی ایک اور فوٹیج کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کا شکار خاتون کے بھائی کو گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ تھانے منتقل کیا۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندان کو مقدمہ درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔
واقعے کی تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کی کارکردگی، مقدمے کے اندراج اور پولیس اہلکاروں کے مبینہ کردار پر مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
متاثرہ فریق اور شہری حلقوں کی جانب سے معاملے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات اور مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
کسی بھی شہری کو تشدد، غیرقانونی حراست، دھمکی یا امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام فریقین کے ساتھ غیرجانبدارانہ رویہ اختیار کریں، متاثرین کو تحفظ فراہم کریں اور کسی بھی شکایت کی شفاف تحقیقات یقینی بنائیں۔
اگر کسی پولیس اہلکار کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال یا جانبداری ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ اہلکار کے خلاف قانون اور محکمانہ ضوابط کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
### HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، عوامی مسائل، قانون کی بالادستی اور عوامی مفاد سے متعلق اہم خبروں کو اجاگر کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW کو سپورٹ کریں](https://www.hrnworldwide.com/?utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات، پولیس مؤقف اور سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیجز کی تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف عائد الزامات کو حتمی طور پر ثابت شدہ نہیں سمجھا جائے گا جب تک متعلقہ تحقیقاتی ادارے یا عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ سامنے نہ آجائے۔ انکوائری کے نتائج اور سرکاری ریکارڈ کو حتمی حیثیت حاصل ہوگی۔


