13

شناختی کارڈ بلاک کرنے کا معاملہ، عدالت نے نادرا اور وزارت خارجہ سے جواب طلب کر لیا

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)اسلام آباد میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف دائر درخواست پر عدالت نے متعلقہ اداروں سے جواب طلب کر لیا ہے۔درخواست گزار خاتون سارہ ریاض نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا شناختی کارڈ متعدد بار بننے کے باوجود اچانک اعتراض لگا کر بلاک کر دیا گیا، جس کے باعث انہیں بینک اکاؤنٹس اور دیگر روزمرہ امور میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے ذریعے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی اور وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق سارہ ریاض کو 1980 کی دہائی کے آغاز میں پاکستانی شہری سے شادی کے بعد پاکستانی شہریت کی بنیاد پر متعدد بار شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کیے گئے، تاہم بعد میں چوتھی مرتبہ اعتراض لگا کر کارڈ کی تجدید روک دی گئی۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ 6 سال سے شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث خاتون کی زندگی شدید متاثر ہے، جبکہ بینک اکاؤنٹ بند ہونے سے یوٹیلٹی بلز اور دیگر مالی امور میں مشکلات درپیش ہیں۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ وزارت خارجہ نے معاملے کے حل کے لیے یوگنڈا کے قونصل خانے سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم عدالت کے بیلف کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ایڈریس پر ایک فیکٹری موجود ہے۔

عدالت نے معاملے کی مزید سماعت کے لیے فریقین سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں