کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے ڈائریکٹر جنرل کے احکامات کی روشنی میں سرائے کوارٹرز میں واقع “نیو چالی ٹریڈ سینٹر” (پلاٹ نمبر 03 اور 04، شیٹ نمبر SR-06) کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ایس بی سی اے کے مطابق مذکورہ پروجیکٹ، جو میسرز الفیضان بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (لائسنس نمبر BL-2385) کے زیرِ انتظام تھا، اس کی ہر قسم کی فروخت، بکنگ، اشتہارات اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سائٹ آفس، بکنگ آفس اور تمام غیر مقبوضہ یونٹس کو سیل کر دیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے مزید بتایا کہ بلڈر کا لائسنس لائسنس اینڈ ریکارڈ سیکشن کی جانب سے منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ متعلقہ تنظیم (ABAD) کو بھی اس بلڈر کی رکنیت منسوخ کرنے کی سفارش بھیج دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ پروجیکٹ اپنی مقررہ مدت مکمل ہونے کے تقریباً 20 سال بعد بھی نامکمل ہے، جبکہ بلڈر کی جانب سے مسلسل تاخیر اور عدم تکمیل کا سامنا رہا ہے۔ اس دوران شکایت کنندگان کی جانب سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض بک شدہ دفاتر کو غیر قانونی طور پر تیسرے فریق کو کرائے پر دیا گیا۔
ایس بی سی اے نے بلڈر پر یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ وہ ادارے کے احکامات کو مسلسل نظر انداز کرتا رہا اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔
اتھارٹی نے عوام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی جمع پونجی کو ممکنہ مالی نقصان سے بچانے کے لیے اس پروجیکٹ میں کسی بھی قسم کی بکنگ، خریداری یا سرمایہ کاری سے مکمل طور پر گریز کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شہری ان ہدایات کے باوجود کوئی لین دین کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری ایس بی سی اے پر عائد نہیں ہوگی۔


