کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ ہائیکورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کنٹریکٹ اور سائٹ سیل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے منصوبے میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تکمیل کی واضح تاریخ طلب کر لی۔
سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار صلاح الدین احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ میڈیا میں یہ کہا جا رہا ہے کہ کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا ہے اور مختلف اداروں کو منصوبے میں شامل کیا جا رہا ہے، جبکہ عملی صورتحال مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ شہر کی مرکزی شاہراہ ہے اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق 16 میں سے صرف ایک اسٹیشن کا ڈیزائن 20 اپریل کو دیا گیا جبکہ 15 اسٹیشنز کے ڈیزائن تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔
وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ منصوبے کی یوٹیلیٹیز 30 ماہ بعد منتقل کی گئیں، تاہم اب بھی مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بغیر مکمل ادائیگیوں کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیے کہ اگر یہی کنٹریکٹ کسی اور ملک میں ہوتا تو کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تاخیر سے پورے شہر کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
عدالت میں وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ اگر معاہدہ زبردستی ختم کیا گیا تو کنٹریکٹر اضافی ادائیگی کا دعویٰ کر سکتا ہے، جو قومی خزانے پر بوجھ ہوگا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ منصوبہ 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے اور اس پر مزید وضاحت دی جائے گی۔ انہوں نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ منصوبے میں تاخیر کس کی وجہ سے ہوئی، اس کا تعین کرنے کے لیے کمیشن بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس سلیم جسیر نے کہا کہ متاثرہ عوام ہیں جبکہ منصوبے کی تاخیر سے پورے شہر میں ٹریفک مسائل بڑھ رہے ہیں۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ٹرانس کراچی کے وکیل کی استدعا پر سماعت 4 مئی تک ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت پر منصوبے کی واضح ٹائم لائن پیش کرنے کی ہدایت کی۔
20


