ایران کے پاکستان پر عدم اعتماد اور خطے میں بڑھتی کشیدگی

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ علاقائی صورتحال اور سفارتی حرکات کے تناظر میں بعض تجزیہ کار دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے اعتماد کے فقدان اور اس کے پس منظر پر مختلف آراء پیش کر رہے ہیں۔ایران کی علاقائی حکمتِ عملی میں بعض ماہرین دو بڑے پہلو بیان کرتے ہیں، جن میں خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مختلف مذہبی و سیاسی بیانیوں کے ذریعے بڑھانا اور اپنی جغرافیائی و تزویراتی حیثیت کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ تاہم یہ آراء تمام مبصرین میں متفقہ نہیں اور اس حوالے سے مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔

دوسری جانب بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی میں بیرونی عوامل بھی کردار ادا کر رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں پیچیدہ سفارتی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ایران کے تعلقات بھی اس وسیع تر جیوپولیٹیکل تناظر کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے حالیہ عرصے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق اعلیٰ عسکری و سفارتی سطح پر مختلف علاقائی ملاقاتیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جن کا مقصد خطے میں استحکام کو فروغ دینا بتایا جاتا ہے۔

دوسری جانب کچھ میڈیا رپورٹس میں پاکستان کے بعض دفاعی اقدامات، بشمول مختلف ممالک کے ساتھ عسکری تعاون، کو لے کر ایران کی جانب سے تحفظات کی بات بھی سامنے آئی ہے، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں خطے کے ممالک اپنے اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحت فیصلے کر رہے ہیں، جس کے باعث بعض اوقات باہمی اعتماد کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ تاہم ماہرین زور دیتے ہیں کہ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دینا خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں