واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)آبنائےہرمزکی ممکنہ ناکہ بندی سےمتعلق بین الاقوامی سطح پر مختلف دعوے اور رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق آبنائے ہرمز میں بعض پابندیوں یا سیکیورٹی اقدامات کا آغاز کیا جا سکتا ہے، جو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے سے مؤثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا دائرہ خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ سمندری گزرگاہ ان کے کنٹرول میں ہے اور اس کی “اسمارٹ مینجمنٹ” کی جا رہی ہے۔
مزید رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے ایک امریکی بحری جہاز کو وارننگ دینے کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں مبینہ طور پر اسے آبنائے ہرمز سے واپس جانے کا کہا گیا۔
تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی، جبکہ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


