آبنائے ہرمز پر اب بھی ہمارا کنٹرول ہے، ایرانی فوج کا امریکی سینٹ کام کو کرارا جواب

**تہران (ایچ آراین ڈبلیو):** ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کے دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول بدستور برقرار ہے اور کسی بھی بحری جہاز کی آمد و رفت کا حتمی اختیار صرف ایرانی افواج کے پاس ہے۔

## **ایران کا مؤقف: “امریکی دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں”**
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے امریکی کمانڈر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:
* **دعوؤں کی تردید:** امریکی بحری جہازوں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دعوے حقیقت کے برعکس اور صریح جھوٹ ہیں۔
* **خودمختاری کا تحفظ:** آبنائے ہرمز ایک حساس آبی گزرگاہ ہے جس کی نگرانی اور کنٹرول کا مکمل حق ایران کی مسلح افواج کو حاصل ہے، کسی بھی غیر ملکی طاقت کو یہاں من مانی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

### **امریکی سینٹ کام کا دعویٰ کیا تھا؟**
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ:
* **کلیئرنس آپریشن:** امریکا نے آبنائے ہرمز سے ایرانی بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے۔
* **جنگی جہازوں کی تعیناتی:** میزائلوں سے لیس دو امریکی ڈسٹرائر (Destroyers) اس علاقے میں تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ آبی گزرگاہ کو محفوظ بنایا جا سکے۔
* **مستقبل کی حکمت عملی:** سینٹ کام کا کہنا تھا کہ ان کے جہازوں نے خلیج عرب میں آپریشنز کیے ہیں اور جلد ہی زیرِ آب ڈرونز (Under-water Drones) اور اضافی فوج بھی اس مشن کا حصہ بنیں گے تاکہ عالمی تجارت کے لیے راستہ کھولا جا سکے۔

### **کشیدگی میں اضافہ**
عالمی دفاعی مبصرین کے مطابق، ایک طرف امریکا آبنائے ہرمز کو “آزاد” کرانے کا دعویٰ کر رہا ہے تو دوسری طرف ایران اسے اپنی علاقائی خودمختاری کا حصہ قرار دے رہا ہے۔ دونوں قوتوں کے متضاد بیانات نے خطے میں فوجی تصادم کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

**انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری آواز بنیں!** دنیا کے نمبر ون انسانی حقوق کے نیوز پورٹل **HRNW (Human Rights News Worldwide)** کی حمایت کریں۔ ہماری صحافت کا مقصد مظلوموں کی داد رسی اور انصاف کا حصول ہے۔

**ہماری مالی معاونت اور سپورٹ کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں