ایران کے مذاکراتی وفد کا نام “میناب 168” رکھنے کی علامتی وجہ سامنے آ گئی

تہران(ایچ آراین ڈبلیو)ایران نے اپنے حالیہ مذاکراتی وفد کو “میناب 168” کا نام دیا ہے، جسے حکام ایک علامتی اور تاریخی پیغام قرار دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ نام ایک ایسے واقعے کی یاد میں رکھا گیا ہے جس میں ایک اسکول پر مبینہ امریکی حملے کے نتیجے میں 168 معصوم طالبات کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس نام کا مقصد اس واقعے کو یاد رکھنا اور عالمی سطح پر جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصانات کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ “میناب 168” صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک علامت ہے جو معصوم جانوں کی قربانیوں کو یاد رکھنے اور طاقتور ممالک کی پالیسیوں کے اثرات کو اجاگر کرنے کا پیغام دیتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے علامتی نام بین الاقوامی مذاکرات میں سیاسی اور جذباتی پیغام رسانی کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، جس کا مقصد اپنے مؤقف کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں