سرکس کی پیشکش سے سپریم کورٹ تک: تین فٹ قد رکھنے والے گنیش کی حوصلہ افزا کہانی

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)سرکس والوں نے تین فٹ قد رکھنے والے گنیش کو پانچ لاکھ روپے کے عوض اس کے والد سے مانگا۔ والد نے اس ذلت آمیز پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا۔ یہ واقعہ گنیش کے لیے حوصلہ شکنی کے بجائے زندگی میں کچھ کر دکھانے کا عزم بن گیا۔

گنیش نے ڈاکٹر بننے کا خواب آنکھوں میں بسائے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایم بی بی ایس میں داخلے کے لیے اس نے میڈیکل کونسل آف انڈیا سے رجوع کیا، مگر جسمانی معذوری کی بنیاد پر اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ گنیش کے بھائی نے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا، تاہم بدقسمتی سے وہاں سے بھی مایوسی ہاتھ آئی۔

چند دنوں کی مایوسی ضرور آئی، مگر گنیش نے ہمت نہ ہاری۔ اس کے بھائی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ طویل قانونی جدوجہد کے بعد وہ دن بھی آیا جب وکیل عدالت کے کمرے سے باہر نکلتے ہی خوشخبری سناتے ہوئے بولا:
“مبارک ہو، ہم مقدمہ جیت گئے!”

یہ خبر سن کر گنیش کا بھائی وہیں بیٹھ کر ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک خوشی کے آنسو بہاتا رہا۔

آج گنیش نہ صرف ایک کامیاب ڈاکٹر ہے بلکہ اسی میڈیکل سینٹر میں بطور ڈاکٹرز آفیسر خدمات انجام دے رہا ہے، جہاں اس نے ایم بی بی ایس مکمل کیا تھا۔

گنیش کی کہانی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ انسان کی قیمت وہ نہیں ہوتی جو حالات یا لوگ لگاتے ہیں، بلکہ وہ ہوتی ہے جو وہ اپنی محنت، حوصلے اور عزم سے خود ثابت کرتا ہے۔

ضروری نہیں کہ آپ کی قیمت اتنی ہی ہو جتنی سرکس والے بتاتے ہیں،
ہمت کریں اور اپنی صلاحیت سے خود کو اتنا مضبوط بنائیں کہ قیمت لگانے والے خود حیران رہ جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں