افغانستان میں ایک سال کے دوران 100 خواتین سمیت 1200 افراد کو شرعی سزائیں

افغانستان(ایچ آراین ڈبلیو)طالبان حکومت کے عبوری دور کے دوران گزشتہ ایک سال میں 100 خواتین سمیت مجموعی طور پر 1200 افراد کو مختلف نوعیت کی شرعی سزائیں دی گئیں۔

ذرائع کے مطابق اس عرصے کے دوران 1186 افراد کو کوڑے مارنے کی سزا دی گئی، جبکہ 6 افراد کو سرِ عام سزائے موت بھی دی گئی۔ یہ سزائیں ملک کے مختلف حصوں میں نافذ کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق شرعی سزاؤں پر عمل درآمد کابل، ہرات، بلخ، قندھار اور ننگرہار میں کیا گیا۔

یہ سزائیں طالبان حکومت کی جانب سے نافذ کی گئیں، جنہیں حکام اسلامی شریعت کے مطابق قرار دیتے ہیں، تاہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین اور دیگر افراد کو سرِ عام سزائیں دینا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جبکہ طالبان حکام مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان اقدامات کا مقصد معاشرے میں جرائم کی روک تھام اور نظم و ضبط قائم رکھنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں