ایران کی تردید، اسرائیل کے دعوؤں پر عالمی سطح پر بحث، علاقائی بیانیوں میں شدت

تہران(ایچ آراین ڈبلیو)ایران نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس نے 4 ہزار کلومیٹر دور واقع ڈیگو گارشیا کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حوالے سے سامنے آنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ اگر ایران 4 ہزار کلومیٹر دور تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپ بھی اس کی رینج میں آتا ہے، لہٰذا ایران کو روکنا ضروری ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانیہ عالمی برادری کو ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنانے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر امریکہ میں نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان نے بھی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے میزائل امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو بعض حلقوں میں تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مختلف ممالک ایک دوسرے کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اسرائیل ایران کو، جبکہ بھارت پاکستان کو عالمی خطرے کے طور پر اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات اور دعوے علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حقائق کی بنیاد پر بات کی جائے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے۔

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حساس صورتحال میں غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے اور دنیا بھر میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں