پاور پلانٹس پر حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، خطے میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

تہران(ایچ آراین ڈبلیو)مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں نہ صرف آبنائے ہرمز بند کی جائے گی بلکہ خطے میں توانائی اور پانی کی اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی قیادت کے مطابق اس اقدام کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے لبنان کے جنوبی علاقے میں قاسمیہ برج کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس پر لبنانی صدر جوزف عون نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی ممکنہ زمینی حملے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں، جبکہ اسرائیلی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل فضا میں ہی ناکام بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کو فیصلہ کن نقصان پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔

ادھر ایرانی حملوں کے نتیجے میں جنوبی اسرائیل کے شہروں عراد اور دیمونہ میں 180 سے زائد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑی تو پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں