پاکستان میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے حوالے سے حکومتی پالیسی میں اہم تبدیلی

**کوئٹہ، پاکستان (ایچ آراین ڈبلیو)** — پاکستان میں غیر قانونی افغان مہاجرین سے متعلق حکومتی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ پہلے ایسے افغان شہری جن کے پاس ویزا یا پاسپورٹ نہیں ہوتا تھا، انہیں **گرفتار کر کے ہولڈنگ کیمپس منتقل** کیا جاتا اور بعد ازاں سرحد کے راستے افغانستان واپس بھیج دیا جاتا تھا۔

تاہم، حالیہ پاک افغان کشیدگی اور حکومت کی مقررہ ڈیڈ لائن کے اختتام کے بعد **اس طریقہ کار میں تبدیلی** کی گئی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اب غیر قانونی افغان مہاجرین کو صرف ہولڈنگ کیمپس منتقل کرنے کی بجائے **ان کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کیے جا رہے ہیں** اور انہیں تھانوں یا جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کچھ افغان شہری عدالتوں سے **ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب** ہو جاتے ہیں، تاہم بڑی تعداد میں ان کی درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے **فارینرز ایکٹ کے تحت گرفتار افغان شہریوں کی ضمانتیں منسوخ** کر دی ہیں اور انہیں جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ جیسے ہی پاک افغان سرحد کھلے، متعلقہ حکام فوری طور پر عدالت کو آگاہ کریں تاکہ **زیرِ حراست افغان شہریوں کو قانون کے مطابق افغانستان واپس بھیجنے** کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

حکومتی پالیسی میں اس تبدیلی کے بعد افغان مہاجرین جو اب تک **رضاکارانہ طور پر واپس نہیں گئے**، ان کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں اور آئندہ بھی بڑھتی رہیں گی۔

**آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide کی معاونت کریں:**
**[https://hrnww.com/support-us](https://hrnww.com/support-us)**

اپنا تبصرہ بھیجیں