حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم میمن نے حکومت کے حالیہ فیصلے پر شدید تشویش اور سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ کے خاتمے اور نیٹ بلنگ کے نفاذ سے عوام، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی صریح خلاف ورزی ہوئی ہے اور یہ کاروباری طبقے کے اعتماد پر کاری ضرب ہے۔
سلیم میمن نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارفین یونٹ کے بدلے یونٹ ایڈجسٹمنٹ کی سہولت حاصل کرتے تھے جس سے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی ہوتی تھی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے کو فروغ ملتا تھا۔ تاہم نیٹ بلنگ کے نفاذ کے بعد صارفین کو برآمد شدہ یونٹس کے عوض بہت کم ادائیگی کی جائے گی جبکہ استعمال شدہ بجلی مہنگے نرخوں پر وصول کی جائے گی، جس سے سولر صارفین کو بھاری مالی نقصان ہوگا اور سرمایہ کاری کا ریٹرن پیریڈ طویل ہو جائے گا۔
صدر چیمبر نے کہا کہ یہ پالیسی نہ صرف سولر صارفین کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ مجموعی طور پر صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی منفی اثر ڈالے گی۔ حکومت کی جانب سے عوام اور تاجروں کے ساتھ کیے گئے معاہدے توڑنے سے اعتماد کا بحران پیدا ہوگا، جو معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
سلیم میمن نے زور دیا کہ حکومت فوری طور پر نیٹ میٹرنگ کے خاتمے اور نیٹ بلنگ کے نفاذ پر نظر ثانی کرے اور تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص بزنس کمیونٹی، تاجروں اور چھوٹے صنعتکاروں کو اعتماد میں لے کر عوام دوست اور سرمایہ کاری دوست پالیسی مرتب کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس پالیسی پر نظر ثانی نہ کی گئی تو بزنس کمیونٹی میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد مزید بڑھ جائے گا، جو ملک کی معاشی ترقی اور توانائی کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔


