دنیا کا سب سے بڑا قبرستان: عراق کے مقدس شہر نجف میں واقع وادی السلام

نجف(ایچ آراین ڈبلیو)دنیا کا سب سے بڑا قبرستان عراق کے مقدس شہر نجف میں واقع ہے، جسے وادی السلام کہا جاتا ہے اور اسے انگریزی میں Valley of Peace کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ نجف کا شمار عراق کے بڑے اور مقدس شہروں میں ہوتا ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں۔

وادی السلام قبرستان گزشتہ چودہ سو برس سے مسلسل استعمال میں ہے، بلکہ اس سے بھی قدیم دور سے اس مقام کی روایات ملتی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے قبرستان ہونے کے ساتھ ساتھ یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے (World Heritage Site) کی فہرست میں بھی شامل ہے۔

یہ قبرستان تقریباً 1485.5 ایکڑ پر محیط ہے اور اس کا رقبہ 9 کلو میٹر سے زائد ہے۔ یہاں موجود قبروں کی تعداد پچاس لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جو اسکاٹ لینڈ، مانچسٹر اور برمنگھم جیسے شہروں کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔ روزانہ اوسطاً 150 سے 200 میتیں یہاں دفن کی جاتی ہیں۔

وادی السلام میں زیادہ تر شیعہ مسلمانوں اور ریاستی جنگوں میں شہید ہونے والوں کی قبریں موجود ہیں۔ قبرستان میں مردوں کی تدفین کے لیے زیرِ زمین تہہ خانے قائم ہیں، جہاں بلاکس کی صورت میں ایک ایک تہہ خانے میں تقریباً پچاس افراد کو دفن کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔

اس قبرستان میں کئی مشہور بادشاہ، شہزادے اور سلاطین مدفون ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام کی قبور بھی یہیں واقع ہیں، جبکہ امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا روضہ مبارک بھی اسی علاقے میں موجود ہے، جس کی وجہ سے اس مقام کو غیر معمولی مذہبی اہمیت حاصل ہے۔

قبور اور مقبروں کی تعمیر میں اینٹوں اور پلاسٹر کا استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ زیرِ زمین تہہ خانے بھول بھلیوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ 2003 کی جنگ کے دوران انہی زیرِ زمین راستوں کو مقامی ملیشیاؤں نے اپنے اڈوں کے طور پر استعمال کیا اور امریکی افواج کے خلاف گوریلا کارروائیاں کی گئیں۔ بعد ازاں عراقی فوج نے کئی مقامات پر ان زیرِ زمین راستوں اور تہہ خانوں کو بلڈوز بھی کیا۔

2003 کے بعد وادی السلام قبرستان کو مزید توسیع دی گئی اور اس کی حدود میں اب تک تقریباً 3 مربع میل کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اس عظیم قبرستان سے متعلق کئی پراسرار واقعات اور قصے کہانیاں بھی مشہور ہیں، جو اسے تاریخی کے ساتھ ساتھ ایک پُراسرار مقام بھی بناتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں