ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی سختی سے تردید

تہران(ایچ آراین ڈبلیو)ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی سختی سے تردید کردی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی نمائندے اسٹیووٹکوف سےکوئی رابطہ نہیں ہوا، نہ ہی ایران نے مذاکرات کی کوئی خواہش ظاہر کی ہے،

انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک ثالثی کی کوششیں کررہے ہیں، لیکن ہمارا موقف واضح ہے، دھمکیوں اور ناجائز مطالبات کے دباؤ میں مذاکرات ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں امریکی فوجی نقل وحرکت اور کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی کا نتیجہ شدید عدم استحکام کی صورت میں نکلےگا، جس کی تمام علاقائی ممالک مخالفت کررہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے خطے میں اپنا ایک طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکا کی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

ایرانی صدر نے امریکی دھمکیوں کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ اور مداخلت ایران کو کمزور نہیں کر سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں