کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ/سی آئی اے (کراچی) نے انٹیلیجنس معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے بمقام پی اینڈ ٹی فلیٹس سن سیٹ بلیوارڈ روڈ گزری، حدود تھانہ گذری سے 520 گرام آئس برآمد کرلی
چھاپے کے دوران بین الصوبائی منشیات کی سپلائی میں ملوث ملزم بنام 1- علی خان ولد نواب کو گرفتار کیا گیا، جب کہ گرفتار شدہ ملزم کا ساتھی بنام شاہ فہد موقع سے فرار ہوگیا۔
اعلیٰ افسران کے احکامات پر منشیات کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے ڈی آئی جی / سی آئی اے مقدس حیدر کی تشکیل کردہ ایس آئی یو / سی آئی اے صدر کی ٹیم نے ایس ایس پی شعیب میمن کی ہدایات پر ایک اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی آپریشن وآصف قریشی کی نگرانی میں پی اینڈ ٹی فلیٹس سن سیٹ بلیوارڈ روڈ سے منشیات کی فروخت میں ملوث ملزم بنام علی خان ولد نواب کو گرفتار کرکے اعلیٰ کوالٹی کی 520 گرام آئس برآمد کرلی ہے جسکی مالیت تقریباً پانچ لاکھ ہے۔
دوران انٹیروگیشن ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ عرصہ دراز سے اس مکروہ کاروبار سے منسلک ہے اس نیٹ ورک کا سرغنہ مفرور ملزم شاہ فہد ہے جس کے لئے گرفتار شدہ ملزم تقریباً 6/7 سال سے کراچی کا نیٹ ورک چلا رہا ہے، ملزم نے انکشاف کیا کہ مفرور ملزم شاہ فہد کے پاس کوکین کے 12 انڈے بھی تھے جن کا کل وزن تقریباً 240 گرام بنتا ہے جس کی مالیت تقریباً پینتالیس لاکھ بنتی ہے، مفرور ملزم کوکین اور آئیس کی سپلائی کا سب سے بڑا بین الصوبائی نیٹ ورک چلارہا ہے، کراچی میں کوکین، آئیس اور ایرانی ویڈ براستہ صوبہ بلوچستان سے آتی ہے جہاں مذکورہ منشیات بھاری مقدار میں موجود ہوتی ہے، ملزم نے انکشاف کیا کہ مفرور ملزم شاہ فہد عرصہ تقریباً 2/3 سال سے اسلام آباد میں مقیم ہے اور وہاں سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں منشیات کا منظم نیٹ ورک چلارہا ہے، لاہور اور اسلام آباد میں کوکین، آئیس اور ایرانی ویڈ براستہ پشاور سے لائی جاتی ہے مزید تفتیش جاری ہے، گرفتار ملزم نے مزید سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں جن میں اپنے منشیات کے منظم نیٹ ورک سے جڑے مستقل خریداروں کے ناموں کے علاؤہ ترسیل کرنے والے کارندوں کے نام اور صوبہ بلوچستان اور پشاور میں موجود منشیات کے سپلائرز کے نام، ملزم نے اس کاروبار کے متعلق ہوشربا انکشافات کئے ہیں جو کہ جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔
گرفتار ملزم و مفرور ملزم اس سے پہلے بھی متعدد مقدمات میں گرفتار ہوچکا ہے ـ
ملزم کے خلاف ایس آئی یو میں ایف آئی آر نمبر 54/2025 زیر دفعہ 4(2)9 CNSA 2024 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہےـ


