سڑکوں کی مرمت بند مگر بااثر شخصیات کو RMA فنڈ سے 1.5 ارب روپے کی غیرقانونی ادائیگی منظور! کیا کوئی کارروائی کرے گا؟

اسلام آباد (رانا تصدق حسین) پارلیمانی قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ملک بھر میں سڑکوں کی مرمت کے تمام منصوبے اس وقت روک دیے جب انہوں نے روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ (RMA) کے استعمال پر پابندی لگا دی
ایک ایسا فنڈ جو خصوصی طور پر سڑکوں کی مرمت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

مگر حیران کن طور پر، اسی RMA فنڈ سے، جو صرف سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے مخصوص ہے، 1.5 ارب روپے کی غیرقانونی ادائیگی بینا پوری ہولڈنگز کو کی گئی، وہ بھی M-6 حیدرآباد-کراچی موٹروے منصوبے کے نام پر مبینہ ثالثی کے بہانے۔ عدالتوں میں مقدمہ لڑنے کے بجائے اثر و رسوخ کے ایک فون کال پر یہ ادائیگی کر دی گئی کیا قانون صرف کمزوروں کے لیے رہ گیا ہے؟

ایک طرف سڑکوں کے لیے فنڈ دستیاب نہیں، دوسری طرف بااثر شخصیات کے لیے قانون اور قواعد کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

یہ فیصلے نہ صرف غیرقانونی ہیں بلکہ مبینہ طور پر علی شیر محسود، جن پر نیب تحقیقات جاری ہیں، کی سربراہی میں سیکریٹری مواصلات (عارضی) کی حیثیت سے کیے گئے۔

اس کرپشن میں ان کا ساتھ دیا سید مظہر شاہ نے، جو ایف بی آر کے BPS-19 کے افسر ہیں مگر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ممبر فنانس کے اعلیٰ عہدے پر تعینات ہیں۔

سیاسی بنیادوں پر تعیناتی سینئر افسران نظرانداز

سید مظہر شاہ کی تعیناتی بذات خود ایک اسکینڈل ہے۔
وہ نہ صرف جونئیر افسر ہیں بلکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چار BPS-20 افسران کو نظرانداز کر کے تعینات کیے گئے، محض اس بنیاد پر کہ وہ وفاقی وزیر اسٹیبلشمنٹ احد چیمہ کے بہنوئی ہیں۔ میرٹ، تجربہ، قابلیت سب کو روند کر طاقتور تعلقات کو ترجیح دی گئی۔

ڈیپوٹیشن مافیا قوانین کی دھجیاں اور اندھی کرپشن

ایسٹا کوڈ کے تحت کسی بھی ادارے میں ڈیپوٹیشن کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال ہے، مگر:

محمد شکیل انور، جی ایم اسٹیبلشمنٹ این ایچ اے کی حیثیت سے غیرقانونی طور پر کام کر رہے ہیں، اور

افتخار محبوب (BPS-18، پی اے اے ایس) ڈائریکٹر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے عہدے پر 9 سال سے زائد عرصے سے موجود ہیں۔

یہ افسران اپنے اصل محکموں میں کام کرنے کے بجائے این ایچ اے میں کرپشن سے بھرپور طاقت کے مزے لے رہے ہیں، شاید اس لیے کہ وہاں جواب دہی کا کوئی خوف نہیں۔

پچاس سے زائد ڈیپوٹیشن افسران ترقی کے حق پر ڈاکا

این ایچ اے میں پچاس سے زائد ڈیپوٹیشن افسران کو ترقیاتی عہدوں پر غیرقانونی طور پر تعینات کیا گیا ہے، جس سے محکمے کے مستقل افسران کی ترقی کے تمام مواقع ختم ہو گئے ہیں۔ یہ ناانصافی ایک منظم سازش کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

کرپٹ افسران کا نیٹ ورک این ایچ اے پر قابض

ممبر انجینئرنگ کوآرڈینیشن سے لے کر ممبر فنانس، جی ایم ریونیو، جی ایم RAMD، ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس ایک منظم نیٹ ورک کے تحت یہ سب اہم عہدے پر بیٹھے افراد کرپشن کی کھلی چھوٹ لیے بیٹھے ہیں۔

سینیٹ کمیٹی کے احکامات کی توہین میاں طارق لطیف بدستور این ایچ اے میں موجود

جب سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے نے میاں طارق لطیف جو کہ پاکستان ریلوے میں کئی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہی کی فوری واپسی کے احکامات دیے، تو چیف ایگزیکٹو این ایچ اے شہریار سلطان نے ان احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ نہ کوئی کارروائی، نہ کوئی وضاحت۔

عبدالعلیم خان خاموش کیوں؟ کیا وہ بھی جواب دہ ہوں گے؟

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اگرچہ این ایچ اے کی مالی اور انتظامی امور سے علیحدگی ظاہر کی ہے، لیکن وہ اس بگاڑ کے ذمہ دار ہیں۔

1.5 ارب روپے کی غیرقانونی ادائیگی، ڈیپوٹیشن کی خلاف ورزی، اور سینیٹ احکامات کی توہین صرف انتظامی معاملات نہیں بلکہ قانونی جرائم ہیں۔

آخری سوال یہ ہے: کیا آڈیٹر جنرل، نیب، یا ایف آئی اے اس کرپشن کے خلاف کوئی قدم اٹھائیں گے؟ یا ایک بار پھر طاقتور طبقات قانون سے بالاتر رہیں گے اور عوام ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر خوار ہوتے رہیں گے؟

بشکریہ سوشل میڈیا پوسٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں