اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) ملک بھر میں موٹر وے اور ہائی وے پر واقع تمام ٹال پلازوں پر ٹیکسوں میں بے لگام اضافہ کر دیا گیا ہے۔ شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ پشاور سے کراچی تک ہر ٹول پلازہ پر ناجائز اور ظالمانہ ٹیکس لیے جا رہے ہیں، جبکہ ان شاہراہوں پر بنیادی سہولتوں کی شدید کمی ہے۔
موٹر وے ایم ون (پشاور تا اسلام آباد) پر ایک سال کے اندر ٹال ٹیکس 180 روپے سے بڑھا کر 500 روپے سے زائد کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر موٹرویز اور ہائی ویز جیسے ایم ٹو، ایم فور اور ایم نائن پر بھی اسی طرز پر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
شہریوں سے ہر موڑ پر پیسے لیے جاتے ہیں، لیکن سہولت کے نام پر کچھ بھی موجود نہیں۔ نہ صاف بیت الخلا، نہ پینے کا پانی، نہ کوئی ایمرجنسی سسٹم۔ صرف وصولی ہے، عوامی خدمت نہیں۔”
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ٹال ٹیکس میں یہ اضافے براہ راست کرایوں میں منتقل ہوتے ہیں، جس کا اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔
> “جب ہر راستے پر ٹیکس بڑھے گا تو ہم کرایہ بڑھانے پر مجبور ہوں گے۔ اور مہنگائی کے مارے عوام پر یہ ایک اور ضرب ہو گی،”
موٹر وے پولیس بھی اس صورتحال سے پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے ٹیکس اور جرمانوں کے باوجود، ان کے پاس اتنی وسائل نہیں ہیں کہ وہ موٹر وے پر اضافی رش اور شکایات کو سنبھال سکیں۔
> “ہماری ترجیح عوام کی حفاظت ہے، مگر جب ٹیکس اور جرمانے کی وجہ سے سفر مہنگا ہو جائے گا، تو لوگوں کا رویہ بدل سکتا ہے۔ ہم ایک طرف عوام کی خدمت کر رہے ہیں، اور دوسری طرف حکومت کی پالیسیوں سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے،”
ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور وزارت مواصلات کو فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لینا چاہیے اور عوامی پیسے کے بدلے حقیقی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہیں تاکہ موٹر وے پولیس اور دیگر ادارے بہتر طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔
عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ پالیسی جاری رہی تو سڑکوں پر احتجاج اور عوامی ردعمل بڑھ سکتا ہے۔


