انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی مخالفت کے باوجود طالبان نے چارمجرموں کو سرعام پھانسی چڑھا دیا

کابل (ایچ آراین ڈبلیو) افغانستان کی سپریم کورٹ نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کے روز چار مردوں کو سرِ عام پھانسی دی گئی، جو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کسی ایک دن میں سب سے زیادہ سرِ عام سزائے موت کی مثال ہے۔

سرِ عام سزاؤں کا یہ واقعہ ملک میں طالبان کی سخت عدالتی پالیسیوں اور شریعت پر مبنی سزاؤں کے نفاذ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے مطابق ان افراد پر قتل اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات تھے جن کے بعد شرعی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ افغانستان میں انصاف کے نظام پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ تاہم طالبان حکومت ان سزاؤں کو اسلامی قوانین کا نفاذ اور جرم کے خاتمے کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں