متنازع وقف ترمیمی بل کے خلاف شدید احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ، باپ بیٹا سمیت 3 جاں بحق

کلکتہ (ایچ آراین ڈبلیو) بھارتی ریاست مغربی بنگال میں متنازع وقف ترمیمی بل کے خلاف شدید احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ اور شیلنگ سے کم از کم 3 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں باپ اور بیٹا بھی شامل ہیں۔ جھڑپوں میں 15 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 188 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق احتجاج کا مرکز مغربی بنگال کا ضلع مرشد آباد تھا، جہاں مقامی افراد نے متنازع وقف ترمیمی قانون کے خلاف شدید مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور متعدد سرکاری املاک کو نذرِ آتش کر دیا۔ جواباً پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ اور شیلنگ کی، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات کشیدہ ہونے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے تاکہ افواہوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے منظور شدہ متنازع وقف ترمیمی بل پر ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلم کمیونٹی کی جانب سے احتجاج جاری ہے، جن کا موقف ہے کہ یہ قانون ان کی مذہبی و فلاحی جائیدادوں پر حکومتی کنٹرول کی راہ ہموار کرتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ دریں اثنا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے فائرنگ کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں