امریکی بھاری تجارتی محصولات عائد کرنے کے اعلان کے بعد، چین اور یورپی یونین کا شدید ردعمل

واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک پر بھاری تجارتی محصولات عائد کرنے کے اعلان کے بعد، چین اور یورپی یونین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جوابی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور معاشی ماہرین نے اس اقدام کو عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے اقدامات کو “یومِ آزادی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محصولات ان ممالک کے خلاف ہیں “جو امریکہ کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں۔”

چین پر اضافی 34 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی شرح 54 فیصد ہو گئی ہے۔ بیجنگ نے فوری طور پر جوابی اقدامات کی دھمکی دی اور کہا کہ یہ اقدام تجارتی تعلقات کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ادھر یورپی یونین کو 20 فیصد محصولات کا سامنا ہے، جس پر یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن نے اسے “عالمی معیشت پر ایک بڑا دھچکا” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یکطرفہ اقدام نہ صرف تجارتی شراکت داروں کو نقصان دے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی غیر مستحکم کرے گا۔

باقی دنیا کے لیے ٹرمپ نے 10 فیصد کے “بنیادی محصول” کا اعلان کیا ہے، جو 5 اپریل سے نافذ العمل ہوگا۔ جبکہ زیادہ محصولات کا اطلاق 9 اپریل سے ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایک نئی تجارتی جنگ کی شروعات ہیں، جس کے عالمی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری اور رسد کے بحران جیسے خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں