اسلام آباد:نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں بے ضابطگیوں اور مالی خوردبرد کا ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں اعلیٰ حکام کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں۔ یہ سنگین بدعنوانی پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہے۔ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو این ایچ اے مزید نقصان اٹھا سکتا ہے، جو ملکی ترقی کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
یوسف علی کا المناک انجام: کرپشن اور دھوکہ دہی کی دردناک کہانی
این ایچ اے کے سابق ممبر انجینئرنگ یوسف علی کو ریٹائرمنٹ سے قبل قومی احتساب بیورو (NAB) کے ساتھ پلی بارگین کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کی زندگی بھر کی کمائی ہاتھ سے نکل گئی۔ ان کی ضبط شدہ جائیدادیں، جن میں اسلام آباد کے ایف-10 سیکٹر میں ایک قیمتی گھر، حیات آباد پشاور میں متعدد پلاٹس، دو لگژری گاڑیاں اور دیگر اثاثے شامل تھے، این ایچ اے کو منتقل کیے جانے تھے۔
حیران کن طور پر، ان میں سے صرف چند اثاثے ہی این ایچ اے کو واپس کیے گئے، جبکہ ایف-10 کا گھر تاحال این ایچ اے کے ریکارڈ میں شامل نہیں کیا گیا، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اثاثوں کی تقسیم میں جان بوجھ کر چھیڑ چھاڑ کی گئی۔
شاکر بلوچ اور پی اے ایس افسران: کھوئے ہوئے فنڈز اور جواب طلب سوالات
یہ کرپشن کا سلسلہ صرف یوسف علی تک محدود نہیں۔ این ایچ اے کے ڈائریکٹر لینڈ شاکر بلوچ کی ضبط شدہ دولت کا بھی کوئی حساب موجود نہیں کہ وہ اتھارٹی کو واپس ملی یا نہیں۔
اسی طرح، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز (PAS) کے وہ افسران، جو لینڈ ایکوزیشن اسکینڈلز میں ملوث تھے، ان سے برآمد کی گئی بھاری رقوم بھی این ایچ اے کے کھاتوں میں جمع نہیں کرائی گئیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آج تک کسی نے نہیں دیا۔
کیپٹن (ر) خرم آغا کا دور: کرپشن کا گڑھ
رپورٹس کے مطابق، این ایچ اے کے سابق سربراہ کیپٹن (ر) خرم آغا نے اپنے دور میں بغیر کسی قانونی منظوری کے مالیاتی فیصلے کیے، جس کی فوری تحقیقات ناگزیر ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے کو چاہیے کہ وہ ان کی مدت ملازمت کے دوران ہونے والی تمام مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کریں تاکہ قومی وسائل کی مزید تباہی کو روکا جا سکے۔
ریاستی وسائل کی کھلی لوٹ مار: این ایچ اے کو ذاتی خزانہ سمجھ لیا گیا
این ایچ اے ایک ریاستی ادارہ ہے، لیکن بااثر بیوروکریٹس نے اسے اپنی ذاتی دولت کے حصول کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کیپٹن (ر) خرم آغا، جو اس وقت سیکرٹری داخلہ کے اہم عہدے پر فائز ہیں، نے رشوت اور غیر قانونی کمیشن کے عوض این ایچ اے کی آمدنی کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے مبینہ طور پر نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس (NH&MP) کو جرمانے کی مد میں جمع ہونے والی رقم کا 75 فیصد اپنے پاس رکھنے کی اجازت دی، جبکہ بقیہ 25 فیصد ان کے فلاحی فنڈ میں منتقل کر دیے گئے—یہ اقدام سراسر غیر قانونی ہے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے این ایچ اے پر اضافی مالی بوجھ ڈال کر موٹروے پولیس کو فنڈز دیے اور روڈ فنڈز کو میٹرو منصوبوں اور بسوں کی خریداری میں لگا دیا تاکہ اپنی ذاتی تشہیر کی جا سکے، جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سراسر دھوکہ دہی ہے۔
اختیارات کا کھلا غلط استعمال: سرکاری وسائل کی لوٹ مار
مزید انکشافات کے مطابق، خرم آغا نے این ایچ اے کے سابق سربراہان کے لیے تاحیات طبی سہولت کی منظوری دینے کی کوشش کی، جو سراسر قوانین کی خلاف ورزی تھی۔
یہاں تک کہ سیکرٹری داخلہ بننے کے باوجود، وہ این ایچ اے کی سرکاری گاڑیاں، ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈز اور دیگر عملہ ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اسی طرح، پاکستان ریلوے کے متنازعہ افسر طارق لطیف اور این ایچ اے کے سابق افسر علی شیر محسود بھی غیر قانونی طور پر این ایچ اے کی گاڑیاں اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں، جو کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے۔
میگا کرپشن: وزارت خزانہ، نادرا، سی ڈی اے اور اربوں روپے کا غبن
وزارت خزانہ، نادرا اور سی ڈی اے بھی این ایچ اے کے 47 ارب ڈالرز کی خطیر رقم ہڑپ کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ نادرا کے ای ٹی ای سی (ETEC) اور روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکال کر غیر متعلقہ منصوبوں جیسے کہ میٹرو بس کی تعمیر اور سی ڈی اے کی بسوں کی خریداری میں لگا دیے گئے، جس کا این ایچ اے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اس کے علاوہ، متنازعہ رعایتی معاہدے، زمینوں کے غلط استعمال، اور وی اسٹیشنز (Weigh Stations) کی ناقص نگرانی کے ذریعے بدعنوانی کا ایک وسیع جال بنا گیا، جس پر آج تک کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا۔
فوری کارروائی کی ضرورت: مجرمان کے خلاف سخت تحقیقات کی جائیں
عوامی وسائل کی اس کھلی لوٹ مار کو روکنے کے لیے فوری طور پر روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ اور دیگر غیر قانونی اخراجات کا فرانزک آڈٹ کیا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان، نیب، اور ایف آئی اے کو اس معاملے میں اعلیٰ سطحی تحقیقات کر کے مجرمان کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
اگر پاکستان کی قیادت واقعی قومی سالمیت کے لیے سنجیدہ ہے، تو اسے این ایچ اے میں جاری اس بے رحم کرپشن کا سدباب کرنا ہوگا، ورنہ یہ ادارہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔
پاکستان سب سے پہلے—اب کارروائی کا وقت آ چکا ہے!


